ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جے این یوتشدد: اس تنظیم نے قبول کی ذمہ داری، ملک کی دیگریونیورسٹیوں کودی گئی یہ دھمکی

پنکی چودھری نے ویڈیو میں کہا کہ اگر مستقبل میں کوئی بھی ملک دشمن سرگرمیاں کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ہم باقی یونیورسٹی میں بھی ایسی ہی کارروائی کریں گے۔

  • Share this:
جے این یوتشدد: اس تنظیم نے قبول کی ذمہ داری، ملک کی دیگریونیورسٹیوں کودی گئی یہ دھمکی
جے این یوتشدد: اس تنظیم نے قبول کی ذمہ داری، ملک کے دیگریونیورسٹیوں کودی گئی یہ دھمکی

جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں طلباء کے دو گروپوں میں تصادم ہوا۔ جس میں متعدد طلباء اور اساتذہ زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لئے ایمس میں داخل کرایا گیا ہے۔ جے این یو میں اس جھڑپ میں متعدد طلبا کو شدید چوٹیں آئیں۔ اس معاملے میں ، دہلی پولیس نے پیر کو نامعلوم افراد کے خلاف ہنگامہ آرائی اور املاک کو نقصان پہنچانے کے معاملہ میں مقدمہ درج کیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی، اس تشدد کی پوری ذمہ داری قبول کرتے ہوئے، ہندو رکشا دل نے کہا ہے کہ جے این یومیں ہوئے تشدد کو انہیں کے کارکنوں نے انجام دیاہے۔ہندو رکشا دل کے قومی صدر پنکی چودھری نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلبا کی پٹائی کرنے والے ہمارے کارکن تھے۔ انہوں نے کہا کہ جے این یو میں ملک دشمن سرگرمیاں ہوتی ہیں ، جسے وہ برداشت نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ملک کے خلاف سازش کرتا ہے تو وہ اسی طرح جواب دیں گے۔ جس طرح اتوار کو جے این یو میں دیا گیا تھا۔ پنکی چودھری نے ویڈیو میں کہا کہ اگر مستقبل میں کوئی بھی ملک دشمن سرگرمیاں کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ہم باقی یونیورسٹی میں بھی ایسی ہی کارروائی کریں گے۔ اگرچہ یہ صرف ہندوکش دل کا دعویٰ ہے ، لیکن پولیس کو اس معاملے میں کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔


جے این یو میں تشدد- فائل فوٹو


سستی شہرت حاصل کرنے کا مقصد؟


تاہم ، یہ پنکی چودھری کے ذریعہ شہرت حاصل کرنے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔ہم آپ کوبتائیں کہ پنکی چودھری اور ان کے کارکنوں نے دہلی کے سی ایم اروند کیجریوال کے دفتر پرپتھراؤ بھی کیا۔ اس کے علاوہ وہ پہلے ہی ایسے معاملات میں جیل جاچکے ہیں

اتوار کی رات جے این یو کیمپس میں طلباء اور اساتذہ پر حملہ کیا گیا۔جس کی وجہہ سے28 افراد زخمی ہوئے اورتشدد پھیل گیا جب لاٹھیوں سے لیس کچھ نقاب پوش افراد نے طلباء اور اساتذہ پرحملہ کیا اور کیمپس میں املاک کو نقصان پہنچا۔ اس کے بعد انتظامیہ نے پولیس کو طلب کرلیاتھا۔ اس حملے میں کم سے کم 28 افراد زخمی ہوئے تھے جن میں جے این یو طلباء یونین کے صدر عیشی گھوش بھی شامل ہیں۔

نقاب پوشوں کے حملہ میں زخمی طلبہ تنظیم کی صدر آئشی گھوش نے میڈیا کو بتایا کہ ان پر حملہ کیا گیا ۔ گھوش نے کہا کہ میرے اوپر نقاب پہنے غنڈوں نے بے رحمی سے حملہ کیا ۔ میرے سر پر چوٹ آئی ہیں ۔ میرا خون بہہ رہا ہے ۔ نقاب پوشوں نے بے رحمی سے میری پٹائی کی ۔


جے این یو طلبہ یونین کا دعویٰ جے این یو طلبہ یونین (جے این یو ایس یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ اے بی وی پی نے یونیورسٹی کیمپس میں تشدد کرتے ہوئے طلبا اور اساتذہ کو نشانہ بنایاہے۔جے این یو کے سابق طالب علم عمر خالد نے ٹویٹ کرکے اس واقعے کے لئے اے بی وی پی کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے لکھا ، 'جے این یو کے سبرمتی دھابے کے باہر بڑی تعداد میں اے بی وی پی طلباء جمع ہوئے۔ اس کے ہاتھوں میں لاٹھی اور ڈنڈے تھے۔ وہ ہاسٹل اور کاروں کے شیشے توڑ رہے تھے۔ جے این یو ایس یو کے صدر عیشی گھوش کو بری طرح سے پیٹا گیا۔ انکے کے سر سے بہت خون نکل رہا تھا۔
First published: Jan 07, 2020 09:16 AM IST