உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پولیس والوں کے رشتہ دار رہا، حزب المجاہدین کی وراننگ "دہشت گردانہ مہم سے دور رہیں ورنہ ..."۔

    جموں وکشمیر پولیس: فائل فوٹو

    جموں وکشمیر پولیس: فائل فوٹو

    حزب المجاہدین کمانڈرریاض نائیکونے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کی لڑائی پولیس سے نہیں ہے، بلکہ پولیس انہیں لڑنے کے لئے مجبورکررہی ہے۔

    • Share this:
      حزب المجاہدین نے پولیس والوں کے اغوا گھروالوں کو رہا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حزب المجاہدین کے کمانڈر ریاض نائیکو نے کہا کہ سبھی اغوا لوگوں کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس نے پولیس والوں کو وارننگ دی ہے کہ وہ دہشت گردی مخالف مہم میں شامل نہ ہوں، ورنہ انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔

      ریاض نائیکو نے کہا کہ پولیس والوں کے رشتہ داروں کو اس لئے اغوا کیا گیا تاکہ یہ پیغام دیا جاسکے کہ دہشت گرد جب چاہیں تب ان کے گھر والوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ نائیکو نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کی لڑائی پولیس سے نہیں ہے بلکہ پولیس انہیں لڑنے کے لئے مجبور کررہی ہے۔

      حزب المجاہدین کی جانب سے جاری آڈیو پیغام میں نائیکو کہتا ہے "ہم لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہندوستان ہمارا دوست نہیں ہے اور ہمیں شیخ عبداللہ سے سبق سیکھنا چاہئے"۔ اس نے مزید کہا کہ ہندوستان کشمیری لوگوں کو تقسیم کرنے میں لگا ہے اور پولیس اس پالیسی کا شکار ہورہی ہے۔ نائیکو کا یہ آڈیو 11 منٹ کا ہے۔

      ریاض نائیکو کے مطابق "ہماری جنگ جموں وکشمیر پولیس سے نہیں ہے، لیکن بدقسمتی سے انہیں اپنے ہی لوگوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے"۔ اس نے دعویٰ کیا کہ دہشت گرد پولیس کے تئیں نرم ہیں، لیکن انہیں کارروائی کے لئے مجبور کیا جارہا ہے۔ نائیکو یہ کہتے ہوئے سنا گیا "ہم آپ کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے، لیکن ہم آپ کو اپنوں سے دور ہونے کے درد کا احساس کرانا چاہتے ہیں"۔

      حزب المجاہدین کمانڈر نے تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 6 لاکھ کشمیری لوگوں نے آزادی کے لئے اپنی جان قربان کی ہے۔ اس نے کہا "آپ (پولیس) کو ہمارے نوجوانوں کے کیریئر خراب نہیں کرنا چاہئے۔ جنگ خاندانوں سے نہیں ہے اور انہیں اس سے دور رکھا جانا چاہئے"۔

      نائیکو نے سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ وہ یہ کہتے ہوئے سنائی دیا کہ "سبھی قیدیوں کو تین دن میں رہا کیا جائے۔ اس نے کہا کہ ہم آپ سے کہہ رہے ہیں کیونکہ آپ ہمارے اپنے کشمیری مسلم ہیں، لیکن کچھ اور ہی کررہے ہیں"۔
      First published: