ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آسام این آر سی :  پہلی فہرست میں جن کے نام چھوٹ گئے ، وہ دوبارہ دے سکتے ہیں درخواست : راجناتھ سنگھ

لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران اس معاملے پر ترنمول کانگریس اور کانگریس کے ارکان کے ہنگامے کے درمیان وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بیان دے کر ایوان کو اس سلسلے میں یقین دلایا۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 04, 2018 03:57 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
آسام این آر سی :  پہلی فہرست میں جن کے نام چھوٹ گئے ، وہ دوبارہ دے سکتے ہیں درخواست : راجناتھ سنگھ
وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ ۔ فائل فوٹو

نئی دہلی: حکومت نے آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن ( این آر سی ) کے نام پر بنگالی باشندوں کو ریاست سے بھگانے کی سازش کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے آج یقین دہانی کرائی کہ پہلی فہرست میں جن کے نام چھوٹ گئے ہیں وہ دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں اور ہر ایک معاملے کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔

لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران اس معاملے پر ترنمول کانگریس اور کانگریس کے ارکان کے ہنگامے کے درمیان وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بیان دے کر ایوان کو اس سلسلے میں یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ "آسام میں این آر سی کا کام سپریم کورٹ کی نگرانی میں چل رہا ہے۔ پہلی فہرست میں ایک کروڑ 90 لاکھ لوگوں کا نام آیا ہے۔ جن کا نام نہیں آیا ہے انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے"۔

مسٹر راجناتھ سنگھ نے اپوزیشن کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کا نام چھوٹ گیا ہے تو وہ درخواست دے سکتا ہے۔ ہر معاملے میں مکمل چھان بین کی جائے گی۔ اس سے پہلے جیسے ہی وقفہ صفر کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن رکن شور مچانے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ این آر سی کے ریاست سے بنگالی باشندوں کو بھگانے کی کوشش ہے۔ اس کے بعد مسٹر راجناتھ سنگھ نے کھڑے ہو کر بیان دیا۔ بیان کے بعد بھی اپوزیشن ارکان نے تھوڑا بہت ہنگامہ کیا، لیکن پھر وہ خاموش ہو گئے۔

First published: Jan 04, 2018 03:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading