உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزارت داخلہ نے روہنگیا کو بتایا خطرہ، دراندازی روکنے کے لئے ریاستوں کو دی یہ ہدایت

    وزارت داخلہ نے یہ ہدایت کی کہ ان روہنگیا مسلم پناہ گزینوں کی شناخت کی جانی چاہئے۔

    وزارت داخلہ نے یہ ہدایت کی کہ ان روہنگیا مسلم پناہ گزینوں کی شناخت کی جانی چاہئے۔

    حکومت ہند کی وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر سمیت تمام ریاستی حکومتوں سے غیر قانونی طور پر ریاستوں میں داخل ہونے والوں کے خلاف قدم اٹھانے کو کہا ہے۔

    • Share this:
      دو دن پہلے میانمار نے بنگلہ دیش سے 7 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو واپس بلانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ وہیں، اب حکومت ہند کی وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر سمیت تمام ریاستی حکومتوں سے غیر قانونی طور پر ریاستوں میں داخل ہونے والوں کے خلاف قدم اٹھانے کو کہا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری سمیت دیگر ریاستوں کو خط لکھا ہے۔

      وزارت داخلہ کے جوائنٹ سکریٹری نے کہا کہ، " تمام ریاستیں روہنگیا مسلمانوں سمیت غیر قانونی طریقہ سے داخل ہونے والے افراد کے خلاف تمام ضروری اقدامات کریں۔ اس معاملے کا جائزہ لیں اور اسے روکنے کے لئے جلد از جلد رپورٹ دیں۔"

      وزارت داخلہ نے کہا، "غیر قانونی طور پر ملک میں رہ رہے لوگ ملک کی سلامتی کے لۓ بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان لوگوں کے ملک مخالف سرگرمیوں میں شامل ہونے کی خبر بھی کئی بار مل چکی ہے۔"

      وزارت داخلہ نے یہ بھی کہا، "اس بارے میں معلومات ملی ہے کہ روہنگیا اور ایسے کچھ غیر ملکی جرائم، ملک مخالف سرگرمی، منی لانڈرنگ، فرضی دستاویزات بنانے کے کام میں شامل ہیں۔ ان میں کئی فرضی پین کارڈ اور ووٹر کارڈ کے ساتھ ملک میں رہ رہے ہیں۔ اس لئے ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ "

      وزارت داخلہ نے ریاستوں کے لئے کچھ ہدایات جاری کی ہیں۔ پہلی ہدایت یہ ہے کہ ان پناہ گزینوں کو نشان زدہ جگہوں پر رکھا جائے۔ ریاستی پولیس اور سیکیورٹی ایجنسی ان کی سرگرمیوں پر قریبی نظر رکھے۔

      وزارت داخلہ نے یہ ہدایت کی کہ ان روہنگیا مسلم پناہ گزینوں کی شناخت کی جانی چاہئے۔ ان کا نام، پیدائش کی تاریخ، پیدائش کی جگہ، والدین کا نام، کس ملک سے ہیں ، سب کی جانکاری جمع ہونی چاہئے۔

      کیا ہے تنازعہ ؟

      روہنگیا کے مسلمانوں اور میانمار کی اکثریتی بودھ کمیونٹی کے بیچ تنازعہ 1948 ء میں میانمار کے آزاد ہونے سے ہی چلا آ رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رخائن ریاست میں جسے اراکان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 16 ویں صدی سے ہی مسلمان رہتے ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب میانمار میں برطانوی حکومت تھی۔ 1826 میں جب پہلا اینگلو۔ برما جنگ ختم ہوئی تو پھر اراکان پر برطانوی حکومت قائم ہو گئی۔ اس دوران، برطانوی حکمرانوں نے بنگلہ دیش سے لیبر کو اراکان لانے کا آغاز کیا۔ اس طرح، میانمار کے رخائن میں پڑوسی ملکوں سے آنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی گئی۔

      بنگلہ دیش سے جا کر رخائن میں بسے یہ وہی لوگ تھے جنہیں آج روہنگیا مسلمانوں کے طور پر جانا جاتا ہے۔ روہنگیا کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر میانمار کے جنرل نے ون کی حکومت نے 1982 میں برما کا قومی قانون نافذ کر دیا۔ اس قانون کے تحت روہنگیا مسلمانوں کی شہریت ختم کر دی گئی جس کے بعد یہ لوگ دیگر ریاستوں میں پناہ لے رہے ہیں۔
      First published: