ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مرکز نے کیا واضح۔ ریاستیں خواہ کچھ بھی کہہ لیں، نافذ کرنا ہی پڑے گا شہریت قانون

مرکز کا کہنا ہے کہ ریاست کے پاس ایسا کوئی بھی اختیار نہیں ہے کہ وہ مرکز کی فہرست میں آنے والے موضوع ’ شہریت‘ سے منسلک کوئی اپنا فیصلہ کر سکیں۔

  • Share this:
مرکز نے کیا واضح۔ ریاستیں خواہ کچھ بھی کہہ لیں، نافذ کرنا ہی پڑے گا شہریت قانون
شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کالج کے طلبہ

نئی دہلی۔ شہریت ترمیمی قانون کو اپنی ریاستوں میں نافذ کرنے کو لے کر اب تک چھتیس گڑھ، کیرالہ، پنجاب، مغربی بنگال اور مدھیہ پردیش نے واضح کر دیا ہے کہ یہ ان کی ریاست میں نافذ نہیں ہو گا۔ قانون کو اپنی ریاست میں نافذ نہ کرنے کو لے کر یہ کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی ملک کی سیکولر خاص کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ حالانکہ مرکز کا کہنا ہے کہ ریاست کے پاس ایسا کوئی بھی اختیار نہیں ہے کہ وہ مرکز کی فہرست میں آنے والے موضوع ’ شہریت‘ سے منسلک کوئی اپنا فیصلہ کر سکیں۔




شہریت ترمیمی بل کوئز میں حصہ لیں ۔


 

لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل ( سی اے بی ) پیر کو منظور ہوگیا ۔ اس کوئز میں حصہ لے کر اس متنازع بل کے بارے میں اپنی معلومات کا اندازہ لگائیں ۔




شہریت ترمیمی بل کے تحت تبت کے پناہ گزینوں کوملے گی شہریت ؟






 کیا، احمدیہ پناہ گزینوں جوپاکستان میں مذہبی ظلم و ستم کا شکارہوکربھاگ کرآئے انہیں شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت ملے گی؟







کیا، بنگلہ دیش ہندومہاجرجو 2015 میں غیرقانونی طورپرہندوستان میں داخل ہوا ہے اسے شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت مل جائیگی؟





بنگلہ دیش کے ایک بدھسٹ مہاجرجن کا نام آسام کے نیشنل رجسٹرآف سیٹیزنس سے نکال دیاگیاہے اور اس کے خلاف فارین ٹرابیونل میں کیس زیرالتواء ہے تو کیا اسے شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت مل جائیگی؟




میگھالیہ آئین کے چھٹویں شیڈول کے تحت آتاہے اور یہ شہریت ترمیمی بل کے حدود سے باہر ہے تو کیا شیلانگ کے پولیس بازار میں رہنے والے ہندوبنگلہ دیش مہاجر،شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت کےلیے درخواست داخل کرسکتاہے؟





کیا پاکستان سے غیرقانونی طورپر آکرناگا لینڈ کے دیما پور میں رہنے والا مہاجر شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت کے لیے درخواست داخل نہیں کرسکتاہے کیوں کہ ناگا لینڈ میں انرلائن پرمٹ کا نفاذ ہے جو شہریت ترمیمی بل کے حدود سے باہر ہے؟







کیا تریپورہ میں قیام پذیر بنگالی ہندو مہاجرین کو شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت مل سکتی ہے ؟





ہندوستان منتقل ہونے والے ہندو، سکھ، بدھیسٹ، جین، پارسی اور عیسائی مہاجرین جوپاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش میں مذہبی ظلم وستم شکار ہوئے ہیں، انہیں شہریت ترمیمی بل کے تحت خود بخود شہریت مل جائیگی ؟




کوئی بھی ہندو مہاجر شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت کا دعویٰ کرسکتاہے؟






بنگلہ دیش کے چکما، ہاجنگ کے پناہ گزین جو اروناچل پریش میں قیام پذیز ہیں اور انہیں اب تک شہریت نہیں ملی ہے تو کیا انہیں شہریت ترمیم بل کے تحت شہریت مل جائیگی؟






کیا سری لنگا سے آنے والے ہندو تامل مہاجرین شہریت ترمیم بل کے تحت ہندوستانی شہریت حاصل کرسکتے ہیں؟





آسامی میں بات کرنے والے ہندو، جو جوہرہاٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں مناسب دستاویزات کی عدم موجودگی کے سبب نیشنل رجسٹرآف سیٹزنس میں شامل نہیں کیاگیاہے؟ کیا وہ شہریت ترمیمی بل کے شہریت کے لیے درخواست داخل کرسکتے ہیں؟

 








 


سی این این ۔ نیوز 18 کو وزارت داخلہ کے ایک سینئر آفیسر نے بتایا کہ مرکزی فہرست میں آنے والے موضوعات کے تحت بنے قانون کو نافذ کرنے سے ریاستیں انکار نہیں کر سکتیں۔ آفیسر نے بتایا کہ آئین کے ساتویں شیڈول میں تین فہرست ہیں جس میں وفاق، ریاست اور موافق فہرست شامل ہیں۔ اس کے تحت پارلیمنٹ کے ذریعہ پاس کیا گیا کوئی قانون جو وفاق کی فہرست کے موضوع کے تحت ہے، وہ پورے ملک میں نافذ ہو گا۔
حالانکہ بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بدھ کو پارلیمنٹ کے ذریعہ پاس کئے جانے سے پہلے ہی شہریت ترمیمی بل کی مخالفت میں آواز اٹھائی تھی، کیرالہ اور پنجاب میں بالترتیب وزیر اعلیٰ پنرائی وجین اور وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ وہ اس قانون کو اپنی ریاست میں نافذ کئے جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
First published: Dec 13, 2019 08:17 PM IST