ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

داعش کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے وزارت داخلہ کا کثیر سطحی سلامتی نظام تیار، سنگاپور ماڈل کا انتخاب

بدنام دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ ( داعش) اور دیگر انتہاپسند تنظیموں کی جانب سے نوجوانوں کو ورغلا کر شدت پسندی کے گڈھے میں دھکیلنے کی سازش کو ناکام کرنے کے لئے وزارت داخلہ ایک کثیر سطح کا سلامتی نظام تیار کرنے پر غور کر رہا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 21, 2018 09:51 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
داعش کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے وزارت داخلہ کا کثیر سطحی سلامتی نظام تیار، سنگاپور ماڈل کا انتخاب
بدنام دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ ( داعش) اور دیگر انتہاپسند تنظیموں کی جانب سے نوجوانوں کو ورغلا کر شدت پسندی کے گڈھے میں دھکیلنے کی سازش کو ناکام کرنے کے لئے وزارت داخلہ ایک کثیر سطح کا سلامتی نظام تیار کرنے پر غور کر رہا ہے۔

نئی دہلی : بدنام دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ ( داعش) اور دیگر انتہاپسند تنظیموں کی جانب سے نوجوانوں کو ورغلا کر شدت پسندی کے گڈھے میں دھکیلنے کی سازش کو ناکام کرنے کے لئے وزارت داخلہ ایک کثیر سطح کا سلامتی نظام تیار کرنے پر غور کر رہا ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے شدت پسندی سے نمٹنے کے لئے سنگاپور کے ماڈل کو منتخب کیا ہے جس سے ملک کے نوجوانوں کو ان بدنام تنظیموں کے چنگل میں پھنسنے سے روکا جا سکے اور گمراہ نوجوانوں کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں واپس لایا جا سکے۔

وزارت داخلہ نے مختلف ویب سائٹس، سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارموں پر شدت پسند نظریہ سے متعلق مضامین اور دیگر مواد سے نمٹنے کے لئے انٹیلی جنس بیورو سے ایک مثالی آپریٹنگ طریقہ کار تیار کرنے کو کہا ہے۔ نوجوانوں کو ان تنظیموں کے اثرات سے دور رکھنے کے لئے متعلقہ ایجنسی کی طرف سے تین مرحلے کا مشاورتی منصوبہ بھی بنایا جا رہا ہے جس میں خاندان کے ارکان، علماء اور ماہرین کو شامل کیا جائے گا۔ اسے حتمی شکل دینے کے لئے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔

وزارت کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ انتہا پسند انہ نظریے سے نمٹنے کے لئے ایک کثیر سطحی نظام تیار کیا جائے گا جس میں تمام متعلقہ فریقوں کو شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ " شدت پسندی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے بہت سے ممالک نے اپنا خاص سکیورٹی نظام تیار کیا ہے، لیکن ہندوستان کے لئے سنگاپور ماڈل سب سے زیادہ موزوں ہے جس سخت اقدامات اور سخت قوانین کے ساتھ ساتھ متعلقہ طبقات کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا گیا ہے"۔

سنگاپور ماڈل قوم پرستی پر مرکوز ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف فرقوں کے درمیان باہمی خیر سگالی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ اس میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لئے خاندانوں، اساتذہ، پڑوسیوں اور متعلقہ طبقوں کے کردار سے متعلق تفصیلی مثالی آپریٹنگ ضابطہ کار بنایا گیا ہے۔ وزارت کے ایک اہلکار نے کہا کہ داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کے اثرات سے نوجوانوں کو بچانے کے لئے ایک جامع منصوبہ بنایا جارہا ہے جس میں سرکاری مشینری اور مسلم کمیونٹی کے تعاون سے نوجوانوں کو صلاح و مشورہ دیا جائے گا۔ انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ہی نگرانی کے جدید نظام کی مدد سے جہادی ویب سائٹس کے ذریعے انٹرنیٹ پر دی جا رہی معلومات پر بھی نگاہ رکھی جائے گی۔

حکومت اچھی شبیہ رکھنے والے معروف مذہبی رہنماؤں کی مدد لینے کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے تاکہ وہ نوجوانوں کو بھٹکنے سے بچا سکیں۔ مغربی ایشیا کے امور کے ماہر قمر آغا کا کہنا ہے کہ جمعہ کی نمازوں کی ادائیگی کے دوران امام صاحبان اس سمت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتہا پسند نظریہ سے نمٹنے کے یہ اقدامات کسی خاص کمیونٹی میں نہیں بلکہ تمام طبقات میں کئے جانے چاہیے۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کے استعمال کے ساتھ ہی مختلف طبقوں کے درمیان رابطہ بھی بڑھایا جانا چاہیے۔

First published: Jan 21, 2018 09:20 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading