ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

پلوامہ حملے کی کیسے رچی گئی تھی سازش، ہوا اب تک کا سب سے بڑا انکشاف

آج بھی لوگوں کے ذہن میں وہ وہ منظر تازہ ہے جب دہشت گردوں نے دھماکہ سے بھری گاڑی کو سی آر پی ایف کے جوانوں کے ٹرک سے ٹکرا دیا تھا۔ جس میں 40 سی آر پی ایف (CRPF) کے جوان شہید ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے ایک سال بعد اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ آخر دہشت گردوں کے پاس اتنی تعداد میں دھماکہ کہاں سے آیا تھا۔ اس حملے میں استعمال بارود کی جانچ کررہے افسران نے انکشاف کیا ہے کہ دہشت گردوں نے اس سازش کو پوری پلاننگ کے ساتھ انجام دیا تھا۔

  • Share this:
پلوامہ حملے کی کیسے رچی گئی تھی سازش، ہوا اب تک کا سب سے بڑا انکشاف
پلوامہ خود کش حملہ میں سی آر پی ایف کے چالیس جوان شہید ہوگئے تھے ۔ فائل فوٹو ۔

جموں۔کشمیر کے پلوامہ (Pulwama) میں 14 فروری 2019 کو ہوئے دہشت گردانہ حملے (Terrorist Attack) کو ابھی بھی ملک نہیں بھلا سکا ہے۔ آج بھی لوگوں کے ذہن میں وہ وہ منظر تازہ ہے جب دہشت گردوں نے دھماکہ سے بھری گاڑی کو سی آر پی ایف کے جوانوں کے ٹرک سے ٹکرا دیا تھا۔ جس میں 40 سی آر پی ایف (CRPF) کے جوان شہید ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے ایک سال بعد اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ آخر دہشت گردوں کے پاس اتنی تعداد میں دھماکہ کہاں سے آیا تھا۔ اس حملے میں استعمال بارود کی جانچ کررہے افسران نے انکشاف کیا ہے کہ دہشت گردوں نے اس سازش کو پوری پلاننگ کے ساتھ انجام دیا تھا۔


ہندوستان ٹائمس میں چھپنے خبر کے مطابق افسران نے اس پورے واقعے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے بم بنانے کے لیے استعمال کیے جانے والے سامان کی چھٹ پٹ چوری کو انجام دیا تھا۔‌ بڑا حملہ کرنے کے لیے دہشت گردوں نے پتھر کی خزانوں سے تقریبا پانچ سو جلیٹن چھڑے چوری کی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے امونیم نائٹریٹ اور امونیم پاؤڈر کو آس پاس کی دکانوں سے چھوٹی چھوٹی تعداد میں خریدا دا جس سے کسی کو ان پر کسی کو شک نہیں نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی ہے اس کے ساتھ ہی ہارڈی ایکس کو کئی مرتبہ میں چھوٹی چھوٹی تعداد میں پاکستان سے منگایا تھا۔

پلوامہ حملے کے لئے دھماکا خیز اشیاء کیسے حاصل کی گئی اس کی جانکاری دیتے ہوئے انکاؤنٹر انسرجنسی افسر نے بتایا کہ محمد کمانڈر مدثر احمد خان (11 مارچ 2019 کو پنگلش میں ایک انکاؤنٹر میں مارا گیا) اوراسماعیل بھائی عرف لمبو (اس وقت کشمیر میں چیف جے ایم کمانڈر) سمیر احمد ڈار (وادی میں جش محمد کا دوسراکمانڈر) اور شاکر بشیر ماگرے (28 فروری 2020 کو کو قومی جانچ ایجنسی سی کسی کے ذریعے اے گرفتار) نے کھدانوں سے اور کھیو (پلوامہ)، خنم (سرینگر)، ترال اونتی پورہ اور لیفٹ پورہ علاقوں میں چٹانوں کو توڑنے والی کمپنی میں استعمال ہونے والی جیلیٹن کی چھڑوں کو دھیرے دھیرے چوری کیا۔


بتا دیں کہ جیلٹین چھیڑا جس میں نائٹروگلسرین ہوتا ہے۔ اسے خفیہ ایجنسیوں سے بچانے کے لئے 5 کلو اور 10 کلوگرام کی مقدار میں جمع کیا گیا تھا۔ عہدیدار نے بتایا کہ امونیم نائٹریٹ (تقریبا 70 70 کلوگرام) اور امونیم پاؤڈر مقامی مارکیٹ سے خریدا گیا تھا، جبکہ 35 کلو آر ڈی ایکس پاکستان سے لایا گیا تھا۔

معاملے کی جانچ کررہے تحقیقات فارنسک ماہرین نے پہلے ہی تصدیق کردی تھی کہ خودکش حملے میں امونیم نائٹریٹ ، نائٹروگلسرین اور آر ڈی ایکس استعمال ہوئے تھے۔ وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ این آئی اے نے حملے کے فورا بعد ہی تمام شواہد اکٹھے کرلئے تھے۔ دھماکہ خیز مواد کو کس طرح جمع کیا گیا اور اس کی ڈلیوری کے پیچھے کون تھے اس کا پتہ لگاتھا۔ انہوں نے کہا کہ آر ڈی ایکس کو پاکستان سے بہت ہی کم مقدار میں ہندوستان بھیجا گیا تھا۔بتایا جاتا ہے کہ جیش محمد کے دہشت گرد چھپ چھپ کر ہندستان میں داخل ہوئے تھے۔
First published: May 26, 2020 10:55 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading