உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مراکز پر سوالیہ نشان

    علی گڑھ : علی گرھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ اور مرکزی وزیر تعلیم اسمرتی ایرانی کے درمیان گفتگو ان دنوں سوشل میڈیا پر سرخیاں بٹور رہی ہے۔ وہیں اس ملاقات نے اے ایم یو کے مراکز کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اس تنازع پرعلیگ برادری کہیں مرکزی حکومت سے پر اُمید ہے تو کہیں ان مراکز کو غیر قانونی قرار دے رہی ہے ۔

    علی گڑھ : علی گرھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ اور مرکزی وزیر تعلیم اسمرتی ایرانی کے درمیان گفتگو ان دنوں سوشل میڈیا پر سرخیاں بٹور رہی ہے۔ وہیں اس ملاقات نے اے ایم یو کے مراکز کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اس تنازع پرعلیگ برادری کہیں مرکزی حکومت سے پر اُمید ہے تو کہیں ان مراکز کو غیر قانونی قرار دے رہی ہے ۔

    علی گڑھ : علی گرھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ اور مرکزی وزیر تعلیم اسمرتی ایرانی کے درمیان گفتگو ان دنوں سوشل میڈیا پر سرخیاں بٹور رہی ہے۔ وہیں اس ملاقات نے اے ایم یو کے مراکز کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اس تنازع پرعلیگ برادری کہیں مرکزی حکومت سے پر اُمید ہے تو کہیں ان مراکز کو غیر قانونی قرار دے رہی ہے ۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      علی گڑھ : علی گرھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ اور مرکزی وزیر تعلیم اسمرتی ایرانی کے درمیان گفتگو ان دنوں سوشل میڈیا پر سرخیاں بٹور رہی ہے۔ وہیں اس ملاقات نے اے ایم یو کے مراکز کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اس تنازع پرعلیگ برادری کہیں مرکزی حکومت سے پر اُمید ہے تو کہیں ان مراکز کو غیر قانونی قرار دے رہی ہے ۔
      یوپی اے حکومت کے دور میں قائم ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کشن گنج بہار، ملا پورم کیرلا اور مرشد آباد مغربی بنگال کے سینٹر وں کی مخالفت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ مراکز اپنے قیام سے ہی تنازعات سے وابستہ رہے ہیں۔
      جہاں ان کو قائم کرتے وقت وائس چانسلر پی کے عبدالعزیز کو زبردست مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس وقت کے اے ایم یو کورٹ اور ایگزکیٹو کے جن ممبران نےاس کی مخالفت کی تھی، وہ لو گ آج بھی ان سینٹروں کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لئے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔
      وہیں دوسری جانب مراکز کے سلسلہ میں کچھ لوگ ابھی پر اُمید ہیں۔ اے ایم یو کے رابطہ عامہ کے افسر ڈاکٹرراحت ابرار کا کہنا ہے یونیورسٹی کے یہ تینوں سنٹر جن کو ایچ آر ڈی کی وزیر ا سمرتی ایرانی غیر قانونی قرار دے رہی ہیں، ان کو اے ایم یو ایکٹ جوپارلیمنٹ سے پاس ہے، کی دفعہ (2) 12کے مطابق اکیڈمک کونسل، ایگزکیٹو کونسل اور بورڈ آف اسٹڈیزسے اور پھر ایچ آر ڈی کے ذریعہ پیش کیے جانے پر صدرجمہوریہ نے پاس کیے ہیں۔ اسمرتی ایرانی اس کو اپنے محکمہ میں دیکھ سکتی ہیں۔
      پی آراو کا مزید کہنا ہے کہ ان سینٹروں کو یو پی اے کی سرکار نے بھی اتنے فنڈ نہیں دیے تھے، جتنے کی درکار تھی اور اب این ڈی اے کی یہ سرکاربھی فنڈ نہیں دے رہی ہے، جس سے ان سنٹروں کی ترقی نہیں ہو پا رہی ہے۔مثال کے طور پر بہار کے کشن گنج سنٹر کو 136 کروڑ میں 10کروڑ دیے گیے ، تو باقی دونوں سنٹروں کو بھی اسی طرح کی فنڈنگ کی گئی ۔ جبکہ بنارس یونیورسٹی ہو یا جامعہ یونیورسٹی ہو، کسی کے فنڈ میں کٹوتی نہیں کی گئی ہے۔
      اے ایم یو انتظامیہ نے ان سنٹروں پر بی اے ، ایل ایل بی، ایم بی اے اور بی ایڈ کے کورس فی الحال شروع کیے تھے۔ اسی طرح تین تین کورس بڑھاتے ہوئے 2020 میں جب اے ایم یو کے 100 سال پورے ہوںگے، ان سینٹروں کو تب تک خود مختار یونیورسٹیاں بنانا تھا۔ ہم کو امید ہے کہ ایچ آر ڈی کی وزیر جلد ہی ان سنٹروں کیلئے فنڈ جاری کردیں گی ۔

      First published: