ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کیرانہ کی وجہ سے شہ سرخیوں میں آئے حکم سنگھ کا تنازعات سے ہے پرانا ناطہ

نئی دہلی۔ یوپی کا کیرانہ گاؤں گزشتہ چند دنوں سے مسلسل شہ سرخیوں میں ہے۔

  • IBN Khabar
  • Last Updated: Jun 16, 2016 03:19 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کیرانہ کی وجہ سے شہ سرخیوں میں آئے حکم سنگھ کا تنازعات سے ہے پرانا ناطہ
نئی دہلی۔ یوپی کا کیرانہ گاؤں گزشتہ چند دنوں سے مسلسل شہ سرخیوں میں ہے۔

نئی دہلی۔ یوپی کا کیرانہ گاؤں گزشتہ چند دنوں سے مسلسل شہ سرخیوں میں ہے۔ ہندوؤں کی مبینہ نقل مکانی کی خبر کو بی جے پی نے خوب اچھالا اور ریاست میں فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی۔ تمام سیاسی جماعتوں نے بھی اس پر سیاست شروع کر دی۔ میڈیا کے کیمرے 24 گھنٹے اس گاؤں کی ہر سرگرمی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے ہندوؤں کی نقل مکانی کی فہرست جاری کرنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ حکم سنگھ بھی آج کل کافی چرچا میں ہیں۔ آخر کون ہیں حکم سنگھ، پڑھیں ان کی زندگی سے جڑی کہانی۔


حکم سنگھ کیرانہ کے ہی رہنے والے ہیں۔ ان کا بچپن کیرانہ کی گلیوں میں کھیلتے کودتے گزرا۔ انہوں نے 12 ویں تک پڑھائی بھی اسی کیرانہ سے کی۔ 12 ویں کے بعد حکم سنگھ آگے کی تعلیم کے لئے الہ آباد چلے گئے۔ الہ آباد يونیورسیٹی سے انہوں نے بی اے اور ایل ایل بی کی تعلیم مکمل کی۔ وکالت کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد انہوں نے پریکٹس شروع کر دی۔


حکم سنگھ نے پی سی ایس جے کا امتحان بھی پاس کر لیا تھا اور جج بننا چاہتے تھے۔ اسی دوران چین نے ہندوستان پر حملہ کر دیا۔ حکم سنگھ کے اندر حب الوطنی کا احساس جاگ اٹھا اور انہوں نے جج کی نوکری چھوڑ فوج میں بھرتی ہونے کا فیصلہ کیا۔ 1963 میں حکم سنگھ فوج میں افسر ہو گئے۔ 1965 میں جب پاکستان نے ہندوستان پر حملہ کیا تو اس کے فوجی دستے کے ساتھ حکم سنگھ نے پاکستانی فوج کو منہ توڑ جواب دیا۔


انیس سو انہتر میں حکم سنگھ نے فوج سے استعفی دے دیا اور مظفرنگر واپس آکر پھر وکالت شروع کر دی۔ حکم سنگھ کا سیاسی سفر 1974 میں شروع ہوا۔ وہ کانگریس کے ٹکٹ پر دو بار ممبر اسمبلی منتخب ہوئے۔ 1980 میں حکم سنگھ نے کانگریس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور لوک دل کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے۔ تیسری بار 1985 میں بھی انہوں نے لوک دل کے ٹکٹ پر ہی الیکشن جیتا اور اس بار ویر بہادر سنگھ کی حکومت میں وزیر بھی بنائے گئے۔

حکم سنگھ نے 1995 میں بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور ایک بار پھر رکن اسمبلی بنے۔ کلیان سنگھ کی حکومت میں وہ وزیر بھی بنے۔ 2009 میں حکم سنگھ نے لوک سبھا الیکشن لڑا، لیکن وہ ہار گئے۔

دو ہزار تیرہ میں مظفرنگر فسادات میں حکم سنگھ کے اوپر بھی کئی الزامات لگے۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں حکم سنگھ کو کیرانہ سیٹ پر جیت ملی۔ یوپی میں بی جے پی کو ملی بے مثال جیت کے بعد ان کو یقین تھا کہ انہیں وزارتی کابینہ میں بھی جگہ ملے گی، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

 

 
First published: Jun 16, 2016 03:18 PM IST