ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہیومن اسٹوری: بریلی کے اس خانوادے میں 14 طلاق ہوچکےتھے، میں15ویں کا شکارہوئی

بریلی کی نداخان ان دنوں تین طلاق اورحلالہ کے خلاف مہم چھیڑے ہوئے ہیں۔ اب وہ بے خوف ہوگئی ہوں۔

  • Share this:
ہیومن اسٹوری: بریلی کے اس خانوادے میں 14 طلاق ہوچکےتھے، میں15ویں کا شکارہوئی
علامتی تصویر

بریلی کی نداخان ان دنوں تین طلاق اورحلالہ کے خلاف مہم چھیڑے ہوئے ہیں۔ مسلم بنیاد پرستوں کے فتویٰ جاری کرنے کے باوجود ندا خان بغیرکسی خوف کے اپنا کام کررہی ہیں۔ بلکہ اسے اورآسانی بھی ہوگئی ہے۔ 


جس خاندان میں 14 طلاق ہوچکے ہوں، وہاں 15 ویں طلاق میں کیوں زیادہ وقت لگتا۔ میں ہروقت خوف کے سایے میں زندگی گزاررہی تھی. انہوں نے میرا حمل ضائع کردیا اور طلاق دے دیا۔  مجھ پر حملہ کرانے کی بھی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ 


شادی کے بعد سسرال پہنچی، وہاں چھوٹے بچے بھی میرے پیر چومتے۔ مجھے یہ سب عجیب لگتا کیونکہ زندگی میں میرا کوئی حاصل نہیں تھا۔ حالانکہ اس کی مخالفت کرنے کا خاص فائدہ نہیں تھا کیونکہ میں اعلیٰ حضرت خاندان کی بہوتھی۔ وہاں کے طورطریقے ظاہرہونے میں وقت نہیں لگا۔ شادی کے اگلے ہی روزشوہرنے کارکے نئے ماڈل کامطالبہ کیا، وہ شوہر جسے پورا بریلی خدا کی طرح پوجتا ہے، یہ شروعات تھی۔


چوبیس سالہ ندابریلی سے لے کر ملک کے تمام اخباروں کی سرخیاں بنی ہوئی ہیں، آخر کون ہیں یہ ندا؟ 

اترپردیش کے بریلی کی ایک عام لڑکی کوزندگی کی مشکلات اوراس سے ابھرنے کی ضد نے ’خاص‘ بنا دیا۔ ندا کا بچپن دوسرے بچوں کی ہی طرح خواب اورکوششوں سے بھرا ہوا تھا، وہ یاد کرتی ہیں، گھرکا ماحول کھلا ہوا تھا۔ کانوینٹ میں پڑھائی کی اورپائلٹ بننے کا خواب دیکھا، اسکول ختم ہوتے نہ ہوتے، لوگ رشتےکا مشورہ دینے لگے۔

جس طبقے سے آتی ہوں، وہاں لڑکیوں کی پڑھائی یا خوابوں سے کسی کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ میری فیملی اس سے تھوڑی الگ تھی، لیکن ہردن کے ساتھ دباو بڑھتا گیا۔ گریجویشن کا آخری پیپرتھا، جب میرے لئے اس خاندان سے رشتہ آیا، ان سے رشتہ جڑنے پرمرنے کے بعد سیدھے جنت ملے گی۔ تمام رشتہ دارایک آوازمیں کہنے لگے۔ پاپا نے میری مرضی پوچھی، میں نے پائلٹ بننے کا خواب ختم کردیا۔

 نداخان: فائل فوٹو

رشتہ طے ہونے سے لے کرشادی کے درمیان 8 ماہ کا فاصلہ تھا۔ اس نے کبھی بات کرنے یا ملنے کی کوشش نہیں کی، یہ شریعت میں جائزنہیں۔ فروری 2015 میں شادی کے فوراً بعد سے سب بدلنے لگا۔ کارکا ماڈل نہ بدلوانے پرشروع ہوئی مارپیٹ بڑھتی گئی۔ حد توتب ہوئی جب سب کے سامنے وہ لوگ مجھے پی جی کے امتحان ہال سے اٹھالائے۔ پولیس بھی ہاتھ باندھے دیکھ رہی تھی، تب اخبارمیں خبرآئی ’’بریلی کی ملالہ کو امتحان دینے سے روکا‘‘۔

اس کے بعد میں خاموش رہنے لگی۔ آئے دن وہ بڑی نزاکت سے بتاتے کہ ان کے گھرمیں اب تک 14 طلاق ہوچکے ہیں۔ مجھ سے طلاق ان کے لئے محض ایک نمبر ہوتا۔ مارپیٹ پھر بھی بڑھتی گئی اوراس قدربڑھی کہ میرا حمل ضائع ہوگیا (بچہ گرگیا) ، مجھے گھر سے نکال دیا گیا۔ 2016 کی بات ہے، میں واپس نہیں لوٹی۔

انہیں اتنا غرور ہے کہ خود کو’’خدا‘‘ سمجھ بیٹھے۔ یہاں تک کہ بچہ ضائع ہونے کو بھی انہوں نے اپنی مرضی کہا۔ 

تب سے اب تک میں نے پولیس اورکچہری کے بے شمارچکر لگائے۔ پولیس ایف آئی آر لکھنے سے صاف انکار کرتی رہی۔ بڑے افسران کے پاس پہنچی، تو انہوں نے حامی بھری۔ جیسے ہی میں نے بتایا کہ درگاہ اعلیٰ حضرت کی بہوہوں، سب کا لہجہ بدل گیا، کہیں کوئی سماعت نہیں تھی۔ آخرکارعدالت کی مدد سے ایف آئی آرکرائی۔ اب تک میرا طلاق نہیں ہواتھا۔ انہوں نے اپنے ہی گھرپرطلاق نامہ بنایا اورکورٹ میں ڈال دیا۔

نمبر15 بننے کے بعد میرے اندر جو بھی خوف باقی تھا، وہ بھی ختم ہوگیا، اب میں اسلام سے خارج

ندا خان بیمارپڑتی ہیں تو انہیں کوئی دوا فراہم نہ کرائی جائے، ان کی موت ہوجائے تو کوئی ان کے جنازے میں شامل نہ ہوگا اورنہ ہی کوئی نمازادا کرے گا، یہ ہے بریلی کے اعلیٰ حضرت درگاہ کا فتوی، جو ندا کے خلاف جاری ہوا ہے۔  ندا کہتی ہیں، میں نے اپنے اورخود جیسی مظلوم عورتوں کے حقوق میں بات شروع کی، جس کے بدلے میں ایسڈ اٹیک (تیزاب پھینکنے) کی بھی دھمکی ملی، اب مجھے مسلم ماننے سے انکارکیا جارہا ہے۔

 نداخان

میں ایک جمہوری ملک میں ہوں، من چاہے توآج صبح مسلمان ہوجاوں، دوپہر میں سکھ، رات کو ہندواورکل کچھ اور۔ کوئی کسی کوکسی مذہب سے نکال نہیں سکتا، لیکن لوگ خوفزدہ ہیں، ملنے والوں کا حقہ پانی بند ہونے کی دھمکی سے ملاقات کرنے والے ہمارے گھرآنے سے بچ رہے ہیں۔ ماں باپ صدمے میں ہیں، اولاد کے غم سے بڑاغم کیا ہوگا۔ میرے ماں باپ کو ان کی بیٹی کی زندگی میں ہی اس کی موت کے بعد کی دھمکیاں سننی پڑی ہیں۔

 

مردولیکا کی رپورٹ
First published: Jul 25, 2018 06:31 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading