ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بیٹی پیدا ہونے کے بعد خاتون کے ساتھ شوہر نے کی ایسی گھٹیا حرکت، جان کر آپ بھی رہ جائیں گے حیران۔۔۔

سرکار ہو یا پھر سماج کے ذمے دار، ہر کوئی چلا۔چلا کر بول رہا ہے کہ اس ہائی ٹیک یگ میں بیٹی بیٹے سے کم نہیں ہے جبکہ نعرہ دیا جا رہا ہے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ لیکن سہارنپور کے دیوبند علاقے کے گاؤں بھینڑا کے رہنے والے ایک کنبے کی ذہنیت ابھی بھی نہیں بدلی ہے۔

  • Share this:
بیٹی پیدا ہونے کے بعد خاتون  کے ساتھ شوہر نے کی ایسی گھٹیا حرکت، جان کر آپ بھی رہ جائیں گے حیران۔۔۔
نعرہ دیا جا رہا ہے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ لیکن سہارنپور کے دیوبند علاقے کے گاؤں بھینڑا کے رہنے والے ایک کنبے کی ذہنیت ابھی بھی نہیں بدلی ہے۔

سرکار ہو یا پھر سماج کے ذمے دار، ہر کوئی چلا۔چلا کر بول رہا ہے کہ اس ہائی ٹیک یگ میں بیٹی بیٹے سے کم نہیں ہے جبکہ نعرہ دیا جا رہا ہے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ لیکن سہارنپور کے دیوبند علاقے کے گاؤں بھینڑا کے رہنے والے ایک کنبے کی ذہنیت ابھی بھی نہیں بدلی ہے۔ اس کنبے نے اپنی بہو کو ضلع اسپتال میں اس امید سے داخل کرایا تھا کہ اس کا بیٹا ہوگا جب بیٹی پیدا ہو گئی تو سسرالیوں نے بہو کا حال تک نہیں پوچھا اور اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ وہیں خاتون گزشتہ دس دن سے زچہ۔بچہ اسپتال کے وارڈ نمبر نو میں اپنے شوہر کا انتظار کر رہی ہے جبکہ پولیس (Police) کی تحریر ملنے کے بعد جانچ میں مصروف پو گئی ہے۔


دراصل، سہارنپور کی منڈی کوتوالی علاقے کے گاؤں کھاتا کھیڑی مقامی نسیم احمد کی بیٹی عائشہ کا نکاح تقریبا دیڑھ سال پہلے دیوبند کوتوالی علاقے کے گاؤں بھنیڑا مقامی شخص کے ساتھ ہوا تھا۔ شادی کے بعد سب کچھ ٹھیک چلا رہا تھا اور اس درمیان عائشہ حاملہ ہوگئی جبکہ شوہر ہر دن عائشہ سے بولتا تھا کہ بیٹا ہی پیدا کرنا۔ وہیں عائشہ کہتی تھی کہ بیٹی ہو یا بیٹا اس کیلئے دونوں ایک ہی جیسے ہیں۔ اس بات پر شوہر اسے پیٹتا تھا۔


بیٹی پیدا ہونے کی بات سن غائب ہوئے سسرال والے اور شوہر۔۔۔

22 جنوری کو عائشہ جو ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا اور اس نے دیر رات ایک بیٹی کو جنم دیا۔ جیسے ہی یہ خبر سسرالیوں کو پتہ لگی تو ضلع اسپتال سے شوہر، ساس اور سسر بہو کا حال جانے بغیر ہی اسپتال سے غائب ہو گئے۔ تقریبا پانچ دن کے بعد بہو عائشہ نے اپنے شوہر کو فون کیا تو اس نے کہا کہ وہ اب اسے نہیں رکھے گا۔ وہ کہیں بھی اپنی شادی کرا سکتی ہے۔ ساتھ ہی کہا کہ بیٹی کو بھی لے جا سکتی ہے۔ اس کے بعد عائشہ کے والد نسیم احمد نے اس کے سسرالیوں سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کوئی بات نہیں کی۔ عائشہ ابھی بھی ضلع اسپتال میں اپنی نوزائیدہ بچی کو گود میں لیکر اپنے شوہر و سسرال والوں کا انتظار کر رہی ہے جبکہ عائشہ کے اہل خانہ ابھی کوئی قانونی کارروائی نہیں چاہتے۔ کنبے کا کہنا ہے کہ عائشہ کا گھر پھر سے بسے اور اس کا شوہر۔سسرال والے اس کو پھر سے اپنائیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو وہ آگے قانونی کارروائی کریں گے۔

پولیس نے کہی یہ بات۔۔
اس معاملے کو لیکر سہارنپور کے ایس پی سٹی ونیت بھٹناگر کا کہنا ہے کہ تھانہ منڈی پر تحریر آئی ہے۔ اس معاملے میں جانچ کرکے کئی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی اور متاثرہ کو انصاف ملے گا۔
Published by: Sana Naeem
First published: Feb 03, 2021 05:12 PM IST