உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حیدرآباد بم دھماکہ : پھانسی کی سزا کے خلاف جمعیۃ علما ہند ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرے گی

    مولانا ارشد مدنی، فائل فوٹو

    نئی دہلی۔جمعیۃ علما ہند تلنگانہ میں نچلی عدالت کے ذریعے21فروری 2013کودلسکھ نگر حیدرآباد میں ہوئے دوہرے بم دھماکہ کے معاملہ میں انڈین مجاہدین کے کمانڈر یسین بھٹکل اور ایک پاکستانی شہری کے علاوہ باقی تین دیگر ملزمان کو پھانسی کی سزا دئے جانے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرے گی۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔جمعیۃ علما ہند تلنگانہ میں نچلی عدالت کے ذریعے21فروری 2013کودلسکھ نگر حیدرآباد میں ہوئے دوہرے بم دھماکہ کے معاملہ میں انڈین مجاہدین کے کمانڈر یسین بھٹکل اور ایک پاکستانی شہری کے علاوہ باقی تین دیگر ملزمان کو پھانسی کی سزا دئے جانے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرے گی کیونکہ وکیل دفاع اور ان ملزمان کے گھر والے نچلی عدالت کے اس فیصلہ سے مطمئن نہیں ہیں ۔ جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے  اس سلسلے میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کو ہدایت دی ہے کہ وہ آگے کی کارر وائی شروع کریں ۔


      مولانا ارشد مدنی نے اس تعلق سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم دہشت گردی کے حامی نہیں ہیں اور ہمارا موقف ہے کہ جو مجرم ہے اسے سزا ملنی چاہئے لیکن اب تک پیش آنے والے واقعات کے مطابق دہشت گردی کے زیادہ تر معاملات میں بے قصور افراد کو ملوث کر کے ان پر فرضی مقدمات تھوپے جاتے رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی نچلی عدالتیں دہشت گردی اور بم دھماکوں کے معاملے میں موت کی سزا سناتی رہی ہیں لیکن جب ہم نے ان فیصلوں کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو وہ لوگ با عزت بری کر دئے گئے یا پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اس معاملے میں تحسین اختر،شیخ اعجاز اور اسد اللہ اخترکے اہل خانہ نے جمعیۃ علما ہند سے رابطہ قائم کرکے نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی درخواست کی ہے ۔ ہمارا ماننا ہے کہ یہ بے قصور ہیں ، ا سلئے جمعیۃ علماء ان تینوں کی پھانسی کی سزا کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرے گی۔ ہمیں امید ہے کہ دیگر معاملات کی طرح اس معاملہ میں بھی انشا اللہ اوپری عدالتوں سے کامیابی حاصل ہوگی اور بے قصور افراد کو رہائی مل سکے گی۔واضح ہو کہ حیدرآباد کے قریب واقع چیرا پلی جیل میں قائم کی گئی خصوصی NIA عدالت کے روبرو اس معاملے کی سماعت عمل میںآئی جس کے دوران استغاثہ نے ملزمین کے خلاف گواہی دینے کے لیئے158 سرکاری گواہوں کو طلب کیا اور502؍ دستاویزات عدالت میں پیش کیئے نیز201 ایسی اشیا ء کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا جسے بم دھماکوں کے مقامات سے حاصل کیا گیا تھا ۔


      ملزمین کی پیروی جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ آر مادھون کی اور انہوں نے زبانی بحث کے ساتھ ساتھ 172 صفحات پر مشتمل تحریری جواب بھی داخل کیا اور عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں ملزمین کی گرفتاری سے لیکر فرد جرم عدالت میں داخل کیئے جانے تک قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں اور عدالت عظمی کے حکم ناموں کو نظر انداز کیا گیا جس کا فائدہ ملزمین کو ملنا چاہئے نیز صرف اقبالیہ بیان کی بنیاد پر ملزمین کو سزائیں نہیں دی جانی چاہئے کیونکہ اقبال بیان ملزمین سے جبراً حاصل کیا گیا تھا جس سے وہ پہلے ہی منحر ف ہوچکے ہیں لیکن خصوصی عدالت نے دفاع کے تمام دلائل کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے ملزمین کو مجرم قراردیا اور انہیں پھانسی کی سزا تجویز کی ۔واضح رہے کہ دل سکھ نگر میں ہوئے دہرے بم دھماکوں میں 17 لوگوں کی موت واقع ہوئی تھی جبکہ 133 فراد شدید زخمی ہوئے تھے۔بم دھماکوں کے بعد قومی تفتیشی ایجنسی NIA نے ملزمان تحسین اختر( بہار)، شیخ اعجاز( پونا)، اسعد اللہ اختر( اعظم گڑھ)، ضیاء الرحمن عرف وقاص ، یاسین بھٹکل کو گرفتارکیا تھا اور ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا ۔

      First published: