உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Farm Laws: ’’میں نے یہ کبھی نہیں کہا‘‘ وزیر زراعت نے دی صفائی! زرعی قوانین سے متلعق کی بڑی وضاحت

    ’’تومر کے بیان نے ایک بار پھر تین زرعی قوانین کو واپس لانے کی مرکز کی سازش کو بے نقاب کر دیا ہے‘‘۔

    ’’تومر کے بیان نے ایک بار پھر تین زرعی قوانین کو واپس لانے کی مرکز کی سازش کو بے نقاب کر دیا ہے‘‘۔

    جمعہ کو ناگپور میں ایگرو ویژن ایکسپو کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے تومر نے متنازعہ قوانین کو ختم کرنے کے لیے ’’کچھ لوگوں‘‘ کو مورد الزام ٹھہرایا۔ انھوں نے کہا کہ ہم زرعی قوانین لائے تھے۔ کچھ لوگوں نے انہیں پسند نہیں کیا لیکن یہ 70 سال کے بعد ایک بڑی تبدیلی تھی۔

    • Share this:
      مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر (Narendra Singh Tomar) نے ہفتہ کو واضح کیا کہ مرکز زرعی قوانین کو ترمیم شدہ شکل میں دوبارہ متعارف نہیں کرے گا۔ یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب تومر نے ایک دن پہلے کہا تھا کہ مرکز تین زرعی قوانین کو واپس لینے کے بعد مایوس نہیں ہے اور وہ اسے دوبارہ آگے بڑھائے گی۔

      جمعہ کو ناگپور میں ایگرو ویژن ایکسپو کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے تومر نے متنازعہ قوانین کو ختم کرنے کے لیے ’’کچھ لوگوں‘‘ کو مورد الزام ٹھہرایا۔ انھوں نے کہا کہ ہم زرعی قوانین لائے تھے۔ کچھ لوگوں نے انہیں پسند نہیں کیا لیکن یہ 70 سال کے بعد ایک بڑی تبدیلی تھی۔ جو نریندر مودی کی قیادت میں آگے بڑھ رہی تھی لیکن حکومت مایوس نہیں ہے۔ ہم ایک قدم پیچھے ہٹے ہیں اور ہم پھر سے آگے بڑھیں گے کیونکہ کسان ہندوستان کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور اگر ریڑھ کی ہڈی مضبوط ہوگی تو ملک مضبوط ہوگا۔

      اس کے بعد کانگریس نے الزام لگایا کہ مرکز پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے بعد ترامیم کے ساتھ تین زرعی قوانین (جو اب منسوخ ہو چکے ہیں) کو واپس لانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری رندیپ سرجے والا نے کہا کہ ’’تومر کے بیان نے ایک بار پھر تین زرعی قوانین کو واپس لانے کی مرکز کی سازش کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ واضح ہے کہ پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے بعد مرکزی حکومت تین کالے قوانین کو نئے روپ میں واپس لانے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور یہ وہ سرمایہ داروں کے دباؤ میں کر رہی ہے‘‘۔

      سرجے والا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے پانچ ریاستوں کے انتخابات میں شکست کے خوف سے پارلیمنٹ میں تین ’’کالے‘‘ قوانین کو معافی مانگی اور منسوخ کر دی ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اس دوران کہا کہ تومر نے وزیر اعظم نریندر مودی کی معافی کی توہین کی ہے۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: