உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جب اٹل بہاری واجپئی نے کہا : میں سیاست چھوڑنا چاہتا ہوں ، لیکن سیاست مجھے نہیں چھوڑتی

    اٹل بہاری واجپئی ۔ فائل فوٹو ۔

    اٹل بہاری واجپئی ۔ فائل فوٹو ۔

    اٹل بہاری واجپئی ایسے کرشمائی لیڈر تھے ، جنہوں نے سیاست میں تو بلندیوں کو چھوا ہی ، ساتھ ہی ساتھ اپنے شاعر دل سے انہوں نے ساتھی لیڈروں اور عوام کے دلوں پر بھی راج کیا

    • Share this:
      اٹل بہاری واجپئی ایسے کرشمائی لیڈر تھے ، جنہوں نے سیاست میں تو بلندیوں کو چھوا ہی ، ساتھ ہی ساتھ اپنے شاعر دل سے انہوں نے ساتھی لیڈروں اور عوام کے دلوں پر بھی راج کیا ۔ آنجہانی واجپئی جی کا شاعر دل اکثر ان کی کویتاوں کے ذریعہ سامنے آجاتا تھا ۔
      واجپئی جب پارلیمنٹ میں خطاب کرتے تھے تو نہ صرف ان کی ساتھی پارٹیاں بلکہ اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران بھی ان کے انداز خطابت کی تعریف کرنے سے خود کو نہیں روک پاتے تھے ۔ جب وہ ریلیوں کو خطاب کرتے تھے ، تو انہیں دیکھنے اور سننے کیلئے جمع ہوئی بھیڑ کی تالیوں کی گڑگڑاہٹ آسمان تک گونجنے لگتی تھی ۔
      سال 1924 میں گوالیا میں پیدا ہوئے واجپئی جی کو انگلش زبان پر بھی اچھی دسترس حاصل تھی ۔ تاہم جب وہ ہندی میں بولتے تھے تو ان کا انداز خطاب زیادہ نکھر کر سامنے آتا تھا ۔ اپنی تقریروں میں وہ اکثر شاعری کا استعمال کرتے تھے ، جس کی وجہ سے ان کے ناقدین بھی خود کو ان کی تعریف کرنے سے نہیں روک پاتے تھے ۔
      واجپئی کی زیادہ کی تر تقریروں میں ملک کیلئے ان کی محبت اور جمہوریت میں ان کا یقین جھلکتا تھا ۔ ان کی تقریروں میں ہندوستان کو ایک مضبوط ملک بنانے کا نظریہ بھی دیکھنے کو ملتا تھا ۔
      پارلیمنٹ میں مئی 1996 میں اپنی ایک تقریر میں واجپئی نے کہا تھا" ـ... اقتدار کا تو کھیل چلے گا ، سرکاریں آئیں گی جائیں گی ، پارٹیاں بنیں گی بگڑیں گی ، مگر یہ ملک رہنا چاہئے ، اس ملک کی جمہوریت امر رہنی چاہئے "۔
      انہیں اکثر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سیاست میں انہیں کویتائیں لکھنے کیلئے وقت نہیں ملتا ہے ۔ ایک عوامی پروگرام میں انہوں نے ایک مرتبہ کہا تھا" ... لیکن سیاست کے ریگستانوں میں یہ کویتا کی دھارا سوکھ گئی "۔
      اپنے انداز خطاب کیلئے مشہور اٹل جی نے ایک مرتبہ کہا تھا "میں سیاست چھوڑنا چاہتا ہوں ، مگر سیاست مجھے نہیں چھوڑتی" ۔ انہوں نے کہا تھا ـ"لیکن ، چونکہ میں سیاست میں داخل ہوچکا ہوں اور اس میں پھنس گیا ہوں ، تو میری خواہش تھی اور اب بھی ہے کہ بغیر کوئی داغ لئے جاوں .. اور میری موت کے بعد لوگ کہیں کہ وہ اچھے انسان تھے ، جنہوں نے اپنے ملک اور دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کی کوشش کی"۔
      First published: