ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اروناچل پردیش میں صدر راج کے نفاذ کی شتروگھن سنہا نے کی تنقید

نئی دہلی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر شتروگھن سنہا نے ہفتہ کو ایک بار پھر اپنی ہی پارٹی پر شدید حملہ کیا ہے۔

  • IBN Khabar
  • Last Updated: Jan 30, 2016 03:47 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اروناچل پردیش میں صدر راج کے نفاذ کی شتروگھن سنہا نے کی تنقید
نئی دہلی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر شتروگھن سنہا نے ہفتہ کو ایک بار پھر اپنی ہی پارٹی پر شدید حملہ کیا ہے۔

نئی دہلی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے  لیڈر شتروگھن سنہا نے ہفتہ کو ایک بار پھر اپنی ہی پارٹی پر شدید حملہ کیا ہے۔  وزیر اعظم نریندر مودی کے مشیروں کو نشانے پر لیتے ہوئے سنہا نے اروناچل میں صدر راج لگائے جانے کے فیصلے کی تنقید کی ہے۔ سنہا نے 'عظیم مشیروں' کا لفظ کا استعمال کرتے ہوئے پوچھا کہ اگر سپریم کورٹ اس کے خلاف فیصلہ دیتا ہے تو ان کے پاس کیا جواب ہوگا؟


مختلف مسائل پر پارٹی قیادت سے الگ رائے رکھنے والے سنہا نے معاملہ عدالت عظمی میں ہونے کے باوجود حکومت کی اس بارے میں 'جلدبازی اور فکرمندی' پر سوال اٹھائے۔ مرکز کی طرف سے اپنے فیصلے کو مناسب ٹھہرائے جانے کے ایک دن بعد سنہا نے سلسلہ وار ٹویٹ میں کہا، 'ہمارے بہادر اور ایکشن ہیرو وزیر اعظم میں میرا پورا یقین ہے لیکن حیرت ہے کہ وہ' عظیم 'مشیر کون ہیں جنہوں نے اروناچل پردیش میں صدر راج کی سفارش کی۔ وہ بھی تب جب معاملہ سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی آئینی بینچ کے پاس زیر غور ہے۔ کیا جلد بازی اور پریشانی تھی۔


سنہا نے ٹویٹ کیا، 'خدا نہ کرے، اگر یہ فیصلہ ہمارے خلاف جاتا ہے، تو ہمارے معزز وزیر اعظم کے لئے ہمارا کیا جواب اور وضاحت  ہو گی ؟' مرکز نے اروناچل پردیش میں صدر راج لگائے جانے کو مناسب قرار دیتے ہوئے جمعہ کو سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کر کہا تھا کہ ریاست میں قانون وانتظام کی صورت حال مکمل طورپر خراب ہو گئی تھی۔

First published: Jan 30, 2016 03:47 PM IST