உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہائی کورٹ اور یوپی حکومت کی ہدایتوں کو ٹھینگا ، عوامی مقامات پر تعمیر مذہبی عمارتوں کے انہدام میں لاپروائی

    عوامی مقامات پر تعمیر مذہبی عمارتوں کے انہدام کے حکم کی تعمیل میں لاپروائی صاف نظر آرہی ہے۔

    عوامی مقامات پر تعمیر مذہبی عمارتوں کے انہدام کے حکم کی تعمیل میں لاپروائی صاف نظر آرہی ہے۔

    عوامی مقامات پر تعمیر مذہبی عمارتوں کے انہدام کے حکم کی تعمیل میں لاپروائی صاف نظر آرہی ہے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:
      لکھنؤ : عوامی مقامات پر تعمیر مذہبی عمارتوں کے انہدام کے حکم کی تعمیل میں لاپروائی صاف نظر آرہی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ 10 جون کو ہی حکم دیا تھا اورحکومت کی جانب سے بھی ریاست کے سبھی ضلع مجسٹریٹ کو عمل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ، مگر نتیجہ امید کے مطابق نہیں رہا۔ سیاسی جماعتوں نے عدالتی اورحکومتی احکام کو بہتر قدم بتایا ، لیکن انتظامیہ کا رویہ تشویش ناک ہے۔
      شہروں میں بڑھتی آبادی اور تنگ ہوتے راستوں کےمدنظر الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ نے 6 ماہ قبل ہی یوپی حکومت کو واضح ہدایت دی تھی کہ 2011 کے بعد عوامی مقامات پرتعمیر ہوئے سبھی مذہبی مقامات کو منہدم کردیا جائے، خاص کر وہ مقامات جو سرکاری زمینوں پرہیں اور جن سے ٹریفک نظام متاثر ہوتا ہے۔ بی جےپی سمیت سبھی سیاسی جماعتیں عدالت کے حکم کا خیرمقدم بھی کر رہی ہیں ، مگرکارروائی میں کوتاہی کیوں ؟ یہ سوال آج بھی برقرار ہے۔
      عدالت کی منشا راہگیروں کی دشواریوں کو دورکرنا تھی ، خواہ وہ مسجد، مندر، مقبرہ اور گرودوارہ ہی کیوں نہ ہو، ریاست کے چیف سکریٹری کی معرفت حکومت نے بھی سبھی ضلع حکام کوعمل کرنے کی ہدایت دی ، مگرلاپروائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
      سرکاری زمین پر ناجائز قبضے کے تحت عبادت گاہ کی تعمیرمذہبی اصولوں کے بھی خلاف ہے ، مگرایسے معاملوں کی کمی نہیں۔2009 میں ایک سروے میں اترپردیش میں 40 ہزارسے زائد ایسے مذہبی مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی ، جو غیرقانونی طور پرتعمیرکرائے گئے تھے ۔ ایسےمقامات کی تعمیرمیں مزید اضافہ بھی ہوا ہے ، مگر اب تک ان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
      First published: