உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اکھلیش یادو نے مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی

    اکھلیش یادو: فائل فوٹو

    اکھلیش یادو: فائل فوٹو

    لکھنؤ۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے ریاست کے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت مسلمانوں کے مفادات کا ہر حال میں تحفظ کرے گی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      لکھنؤ۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے ریاست کے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت مسلمانوں کے مفادات کا ہر حال میں تحفظ کرے گی۔ دہلی کی شاہی جامع مسجد کے امام مولانا سید احمد بخاری کی قیات میں ریاست کے سرکردہ علما، دانشور،وکلا،صحافی اورسرکردہ سماجی کارکنوں پر مشتمل ایک وفد سے ملاقات کے دوران وزیر اعلی نے بتایا کہ ان کی حکومت نے خواتین پنشن اور جنیشور مشرا یوجنا اور دیگر ترقیاتی اسکیموں میں مسلمانوں کو ان کا حصہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے الزام میں ریاست کی مختلف جیلوں میں بند مسلمانوں کی رہائی کے معاملے پر ان کی سرکار نے ایسے تمام کیسوں میں جن میں بے گناہ مسلم نوجوانوں کو ماخوذ کیا گیا تھا انہیں رہا کرانے کے لئے مقدمات واپس لینے کا فیصلہ ان کی حکومت پہلے ہی کر چکی ہے۔لیکن چوں کہ عدالتوں میں معاملے زیر التوا ہیں اس لئے عدالتوں کی اجازتوں کے بغیر مقدمات کی واپسی اور ان کی رہائی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ 90منٹ کی اس ملاقات میں شاہی امام نے وزیر اعلی کے سامنے گذشتہ روز یہاں منعقدہ نمائندہ اجتماع میں پاس کردہ قرار داد پیش کی اور اس بات پر خاص زور دیا کہ اتر پردیش کے مسلم اکثریتی علاقوں میں آئندہ تعلیمی سال سے سرکاری اسکولوں میں اردو تعلیم کا بندوبست کیا جائے۔ وزیر اعلی کے سامنے یہ مسئلہ بھی اٹھایا گیا کہ ریاست میں اگر کوئی اردو میڈیم اسکول کھولنا چاہے تو سرکارا س کو تسلیم نہیں کرتی جس کی وجہ سے ان اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے داخلے سرکاری اسکولوں میں مشکل ہو جاتے ہیں ۔


      شاہی امام نے جب ان کی توجہ مسلم اکثریتی علاقوں میں روزگار کے لئے سیکورٹی فورسز میں بھرتی کے لئے کیمپ لگانے کا مسئلہ رکھا تو مسٹر یادو نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز میں بھرتی کے لئے انہوں نے طریقہ کار آسان کردیا ہے اور پی ایس ای اور دیگر فورسز کی بھرتی کے لئے جسمانی صلاحیت کے ساتھ معلم اور عالم کی سند کو انٹر کے مساوی تسلیم کر لیا گیا ہے ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ اگر کوئی معلم یا عالم کی ڈگری رکھتا ہے اور جسمانی طور پر وہ شرائط پر پورا اترتا ہے تو اس کی بھرتی فورسز میں ہوسکتی ہے۔ شاہی امام نے مسلم اکثریتی علاقوں میں جب مسلم افسروں کی تعیناتی کی طرف وزیر اعلی کی توجہ دلائی تو انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ہم نے جتنا کام کیا ہے اس سے پہلے کسی بھی ریاستی حکومت نے اتنا کام نہیں کیا ہے ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ ہمارے تو ڈائرکٹر جنرل آف پولس بھی مسلمان ہیں ۔ سچر کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کے سلسلے میں ہم نے مختلف فلاحی اسکیموں میں اقلیتوں اور مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے ان کا حق دیا ہے۔


      خیال رہے کہ 15رکنی وفد کے اہم شرکا میں ایڈوکیٹ چودھر ی راحت محمود،مسٹر انیس جامعی،سید طارق بخاری، ایڈوکیٹ راشد کمال سامانی کے علاوہ لکھنؤ، کانپور، ایٹاوہ،دیوریا، بجنور، علی گڑھ، مراد آباد سمیت دیگر اضلاع کے سرکردہ نمائندے شامل تھے۔

      First published: