உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازع کا واحد حل مذاکرات: سید احمد بخاری

    امام بخاری نے وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے خطے میں امن کی بحالی کے لئےمذاکرات کا راستہ اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جنگ ہندستان اور پاکستان دونوں کے مفاد میں نہیں ہے اور بات چیت کے ذریعہ کسی بھی مسئلہ کا حل نکل سکتا ہے۔

    امام بخاری نے وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے خطے میں امن کی بحالی کے لئےمذاکرات کا راستہ اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جنگ ہندستان اور پاکستان دونوں کے مفاد میں نہیں ہے اور بات چیت کے ذریعہ کسی بھی مسئلہ کا حل نکل سکتا ہے۔

    امام بخاری نے وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے خطے میں امن کی بحالی کے لئےمذاکرات کا راستہ اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جنگ ہندستان اور پاکستان دونوں کے مفاد میں نہیں ہے اور بات چیت کے ذریعہ کسی بھی مسئلہ کا حل نکل سکتا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ ہندستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران شاہی جامع مسجد دہلی کے امام مولانا سید احمد بخاری نے خطہ میں امن کی بحالی کے لئے دونوں ملکوں سے مذاکرات کا راستہ اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کا راستہ پورے خطے کےلئے انتہائی تباہ کن ثابت ہوگا اس لئے اس سے دونوں ملکوں کو گریز کرنا چاہئے ۔ آج یہاں جاری کردہ ایک بیان میں امام بخاری نے وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے خطے میں امن کی بحالی کے لئےمذاکرات کا راستہ اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جنگ ہندستان اور پاکستان دونوں کے مفاد میں نہیں ہے اور بات چیت کے ذریعہ کسی بھی مسئلہ کا حل نکل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان اور پاکستان کے درمیان ماضی کی جنگوں کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔اگرجنگ سے حل نکل سکتا تو اب تک حل نکل چکا ہوتا۔اڑی، پٹھان کوٹ اورکشمیر کے واقعات ہم سب کیلئے نہایت تشویشناک ہیں۔ مولانا بخاری نے کہا کہ اڑی واقعہ کے بعد ہندستان اورپاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہواہےاور ان واقعات کے بعد سے سرحدوں پر تناؤ اوردونوں طرف جنگ کا ماحول ہے۔جنگ دونوں ملکوں کیلئے نہایت تباہ کن ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولناچاہئے کہ دونوں ممالک ایٹمی طاقت کے حامل ہیں اور ہیروشیما کی تباہی کے نتائج دنیا کے سامنے ہیں۔ اس لئے جنگ سے بچنے کے لئے دونوں ملکوں کو ہر ممکن اقدامات کرنے چاہئیں۔


      انہوں نے کہا کہ ان حالات کی وجہ سے ہندوستان کے کروڑوں مسلمان اس وقت آزمائش کے دورسے گزررہے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ موجودہ حالات سے نجات پائی جائے ، کیونکہ جب بھی پاکستان اور ہندستان کے درمیان حالات کشیدہ ہوتے ہیں تواس کاسیدھا اثر ہندستان کے مسلمانوں پر پڑتا ہے۔ سید بخاری نے کہا کہ دہشت گردی اس وقت نہ صرف ہندوستان کا مسئلہ ہے بلکہ پوری دنیا اس کاشکارہے، جس کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ اسلئے یہ وقت ضد اور اناکا نہیں بلکہ دہشت گردی کے اس ناسورکوختم کرنے کاہےاوراس کاحل صرف بات چیت سے ہی نکالاجاسکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کے خاتمہ کے نہایت ا ہم مسئلے پر بات چیت کریں اسی کے ساتھ ہمیں کشمیری عوام کے اس درد کو بھی سمجھناہوگا کہ جس کی وجہ سے گزشتہ 26 برسوں سے وہاں کے عوام اضطراب اور بے چینی میں مبتلا ہیں۔


      انہوں نے کہا کہ ہمیں مذاکرات کے ذریعہ کشمیر کے مسئلہ کا حل بھی حل تلاش کرنا چاہئے تاکہ وہاں امن وامان کی فضاء قائم ہو۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے سربراہان سنجیدگی اورمتانت کے ساتھ حالات کو معمول پرلانے کی ہرممکن کوشش کریں گے۔

      First published: