உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طلاق ثلاثہ بل لوک سبھا میں منظورکیاجانا بی جے پی کا انتخابی حربہ: امام بخاری

    جامع مسجد دہلی کے شاہی امام سید احمد بخاری: فائل فوٹو

    جامع مسجد دہلی کے شاہی امام سید احمد بخاری: فائل فوٹو

    شاہی امام نے بی جے پی کے اس استدلال کومسترد کردیا کہ وہ مسلم خواتین کے حقوق کی پاسبانی کیلئے یہ قدم اٹھا رہی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نےعام انتخابات سے چند ماہ قبل طلاق ثلاثہ بل کولوک سبھا میں'غیرضروری عجلت' کےساتھ منظورکروانے کوبی جے پی کا انتخابی حربہ قراردیا ہے۔ یہاں جاری ایک بیان میں مولانا بخاری نے بی جے پی کے اس استدلال کومسترد کردیا کہ وہ مسلم خواتین کے حقوق کی پاسبانی کیلئے یہ قدم اٹھا رہی ہےاورپوچھا حکومت بتائے کہ اس کی کونسی ایسی پالیسی یاعمل ہے، جس کا تعلق مسلمانان ہندکی فلاح وبہبود سے ہے۔
      مولانا سید احمد بخاری نےگئوکشی کے نام پرتشدد اورمنافرت کوبھی انتخابی حکمت عملی پر محمول کیا اورکہا کہ طلاق ثلاثہ بل کیلئے جوقانون بنایا جارہاہے، اس کوقائمہ کمیٹی کےسپرد کرکےتمام متعلقہ فریقین اورماہرین کی آراء لینے کے بجائے یہ جانتے ہوئےکہ راجیہ سبھا میں اس کا منظورہونا ممکن ہی نہیں، اس طرح منظورکیا جانا سیاست نہیں تواورکیا ہے؟

      شاہی امام نے مسلم پرسنل لابورڈ کوبھی اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بورڈ طلاق ثلاثہ کے حوالے سے اپنی ذمہ داری اورفرائض منصبی ادا کرنے میں ناکام رہا۔ بورڈ کوشروع سے ہی اس معاملے پراجتماعی رائے قائم کرنے کے لئے دیگرمسالک کوساتھ لےکرچلنا چاہئے تھا اورزیربحث طریقۂ طلاق سے ہونے والے مسلم خواتین کے استحصال پرقابوپانے کیلئے ضروری، انتظامی واہتمامی اصلاحات کے ساتھ ایک مناسب نکاح نامہ تجویزکرلیا جانا چاہئے تھا۔
      مولانا سید احمد بخاری نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ جہاں ایک طرف اپنی ناکامیوں کا اعتراف کیاجائے وہیں دوسری طرف باہمی اشتراک کی بنیاد پرایک ایسی حکمت عملی اورلائحہ عمل کی طرف بڑھاجائے، جس سے اس طرح کی آئندہ ایسی صورتحال کا سامنا نہ ہو۔
      First published: