ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اگلے کچھ گھنٹوں میں مزید خطرناک ہوگا سمندری طوفان توک تائی ، کیرالہ سے گجرات تک الرٹ

Thunderstorm Warning For Karnataka: وزیر اعظم مودی نے بھیانک سمندری طوفان ٹوکٹے سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے میٹنگ کی ہے ۔

  • Share this:
اگلے کچھ گھنٹوں میں مزید خطرناک ہوگا سمندری طوفان توک تائی ، کیرالہ سے گجرات تک الرٹ
اگلے کچھ گھنٹوں میں مزید خطرناک ہوگا سمندری طوفان ٹوکٹے ، کیرالہ سے گجرات تک الرٹ

نئی دہلی : مرکزی حکومت نے سمندری طوفان توک تائی کے اگلے چھ گھنٹوں میں مزید خطرناک ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے ۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات نے ہفتہ کو کہا کہ بحیرہ عرب کے اوپر بنے دباو کا علاقہ اب سمندر طوفان میں تبدیل ہوگیا ہے اور اس کے 18 مئی کے آس پاس پوربند اور نالیا کے درمیان گجرات کے ساحل کو پار کرنے کا امکان ہے ۔ محکمہ موسمیات نے اپنے خصوصی بلیٹن میں یہ بات بتائی۔


امکان ہے کہ یہ طوفان آئندہ 6 گھنٹوں کے دوران شدید سمندری طوفان اور آئندہ 12 گھنٹوں کے دوران شدید سے شدید ترین سمندری طوفان کے طورپر شدت اختیار کرلے گا۔ امکان ہے کہ یہ شمال شمال مغربی سمت کی سمت پیشقدمی کرتے ہوئے 18 مئی کی دوپہر یا شام کے درمیان گجرات کے ساحل پوربندر اور نالیا کو پار کرے گا۔


مرکزی اور ساحلی ریاستوں کی سرکاریں سمندری طوفان کی تیاریاں کررہی ہیں ۔ وزیر اعظم مودی نے بھیانک سمندری طوفان توک تائی سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے اہم میٹنگ کی ہے ۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے ریاست کے ساحلی اضلاع کے افسران کو محتاط رہنے اور حالات سے نمٹنے کیلئے آلات سے لیس رہنے کی ہدایت دی ہے ۔


قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی تقریبا 100 ٹیموں کو پانچ ریاستوں کیرالہ ، کرناٹک ، تمل ناڈو ، گجرات اور مہاراشٹر میں لوگوں کو محفوظ جگہ پہنچانے اور امدادی اور بچاؤ کے کاموں کے سلسلے میں تعینات کیا گیا ہے۔ متعلقہ ریاستوں نے ساحلی علاقوں میں اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی ٹیمیں بھی تعینات کی ہیں۔ ان ریاستوں کے مختلف حصوں میں ریڈ اور اورنج الرٹ جاری کردیئے گئے ہیں۔ لکشدیپ کے نشیبی علاقوں میں سیلاب آنے کا امکان ہے۔

ماہی گیروں کو منگل تک بحیرہ عرب میں داخل نہ ہونے کے لئے کہا گیا ہے جبکہ سیاحت کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور بحری مہموں کے لئے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

نیوز ایجنسی یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ ۔ 
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 15, 2021 07:07 PM IST