உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Uniform Civil Code: ’یکساں سول کوڈ کا نفاذ معمار دستور امبیڈکر کو خراج عقیدت کا ذریعہ‘ کیا واقعی ایسا ہے؟

    ڈاکٹر بی آر امبیڈکر

    ڈاکٹر بی آر امبیڈکر

    مساوات ایک آئینی وعدہ ہے اور گزشتہ سات دہائیوں کے دوران یہ عدالتی مقابلہ جات اور سیاسی بیان بازی کا معاملہ رہا ہے۔ جب شادی اور وراثت جیسے مسائل کی بات آتی ہے تو کیا قانون کی برابری ہے؟ انڈین پینل کوڈ 1860 اور ضابطہ فوجداری 1973 کی شکل میں ایک فوجداری قانون موجود ہے۔ پھر شادی کے معاملات کو چلانے کے لیے ایک سول کوڈ کیوں نہیں ہے؟

    • Share this:
      گرو پرکاش پاسوان

      صرف چند ہفتے قبل قوم نے ہمارے آئین کے بنانے والے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر (DR B.R. Ambedkar Ambedkar) کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ یکساں سول کوڈ (Uniform Civil Code) کے نفاذ پر قومی بات چیت کا وقت اس سے بہتر نہیں ہو سکتا ہے۔ اتراکھنڈ، اتر پردیش اور ہماچل پردیش جیسی اہم ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے یکساں سول کوڈ کے مضبوط ارادوں کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی اور تعلیمی طبقے میں بھی اس سمت میں بحث شروع ہو گئی ہے۔

      یکساں سول کوڈ کا قیام ایک آئینی استحقاق ہے نہ کہ محض ایک سیاسی بیانیہ۔ یہ حقیقی معنوں میں مساوات کے نقطہ نظر سے انتہائی اہم ہے۔ آئینی اعتبار سے یو سی سی کے لیے ایک مضبوط بنیاد موجود ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم دفعہ 15 میں داخل ہوں جو مذہب، نسل، ذات، جنس اور جائے پیدائش وغیرہ کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کی ممانعت کرتا ہے اور دفعہ 44 جو واضح طور پر کہتا ہے کہ ریاست، ہندوستان کے پورے علاقے میں شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ کو محفوظ بنانے کی کوشش کرے گی۔ (The state shall endeavour to secure a Uniform Civil Code for the citizens throughout the territory of India)

      میں آپ کی توجہ ہمارے آئین کی تمہید کی طرف مبذول کراؤں گا جسے اس کی روح سمجھا جاتا ہے اور جو مقام اور مواقع کی مساوات کا واضح طور پر اعلان کرتا ہے۔ مزید برآں آئین کے خیال سے بالاتر مساوات بحیثیت قوم ہمارے لیے ایک تہذیبی ترجیح رہی ہے۔ جیوتیبا پھولے، ساوتری بائی پھولے، کبیر اور رویداس کی زندگی اور ذات پات اور جنس سے قطع نظر سب کے ساتھ یکساں سلوک کے تصور میں اس گہرے سوچ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

      مزید پڑھیں: راج ٹھاکرے کی مشکلات میں ہوگا اضافہ؟ پہلے سے ہی جاری ہے غیر ضمانتی وارنٹ

      مساوات ایک آئینی وعدہ ہے اور گزشتہ سات دہائیوں کے دوران یہ عدالتی مقابلہ جات اور سیاسی بیان بازی کا معاملہ رہا ہے۔ جب شادی اور وراثت جیسے مسائل کی بات آتی ہے تو کیا قانون کی برابری ہے؟ انڈین پینل کوڈ 1860 اور ضابطہ فوجداری 1973 کی شکل میں ایک فوجداری قانون موجود ہے۔ پھر شادی کے معاملات کو چلانے کے لیے ایک سول کوڈ کیوں نہیں ہے؟ طلاق اور جانشینی وغیرہ پر کسیا نظام رائج ہوگا۔

      مزید پڑھیں: عید پر Rani chatterjee نے پیلی ڈریس میں لوٹی محفل، دیکھیں تصاویر

      امبیڈکر کے لیے مساوات، بنیادی سوچ کا ایک مضمون تھا جس پر سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ ذاتی قوانین کے حوالے سے انہوں نے مشاہدہ کیا کہ میں ذاتی طور پر نہیں سمجھتا کہ مذہب کو یہ وسیع، مکمل دائرہ اختیار کیوں دیا جائے، تاکہ پوری زندگی کا احاطہ کیا جا سکے اور مقننہ کو اس میدان میں تجاوزات سے روکا جا سکے۔

      مزید پڑھیں: عید پر Rani chatterjee نے پیلی ڈریس میں لوٹی محفل، دیکھیں تصاویر

      ان کا کہنا تھا کہ آخر ہم یہ آزادی کس لیے حاصل کر رہے ہیں؟ ہمیں یہ آزادی اپنے سماجی نظام کی اصلاح کے لیے حاصل ہے، جو کہ عدم مساوات، امتیازی سلوک اور دیگر چیزوں سے بھرا ہوا ہے، جو ہمارے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: