ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: بیوی بے وفا ہے یا نہیں؟ DNA  ٹیسٹ سے کر سکتے ہیں ثابت، جانیں پورا معاملہ

الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court) نے فیملی تنازعہ کے ایک معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ (DNA Test) سے ثابت کر سکتے ہیں کہ بیوی بے وفا ہے یا نہیں۔

  • Share this:
ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: بیوی بے وفا ہے یا نہیں؟ DNA  ٹیسٹ سے کر سکتے ہیں ثابت، جانیں پورا معاملہ
Allahabad High Court

پریاگ راج: الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court) نے فیملی تنازعہ کے ایک معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ (DNA Test) سے ثابت کر سکتے ہیں کہ بیوی بے وفا ہے یا نہیں۔ دراصل ہمیر پور (Hamirpur) کے رہنے والے جوڑے کا فیملی کورٹ (Family Court) سے طلاق ہو چکا ہے۔ طلاق کے تین سال بعد بیوی نے مائیکے میں بچے کو جنم دیا۔ بیو نے دعویٰ کیا کہ بچہ اس کے شوہر کا ہے جبکہ بیوی کے ساتھ جسمانی تعلقات ہونے سے انکار کیا۔


ڈی این اے ٹیسٹ (DNA Test) سب سے بہتر طریقہ

معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچا تو اب ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ شخص بچے کا والد ہے یا نہیں ؟ یہ ثابت کرنے کیلئے ڈی این اے ٹیسٹ (DNA Test) سب سے بہتر طریقہ ہے۔ کورٹ نے کہا کہ ڈی این اے ٹیسٹ سے یہ بھی ثابت ہو سکتا ہے کہ بیوی بے وفا ہے یا نہیں۔ دراصل شوہر رام آسرے نے فیملی کورٹ میں ڈی این اے ٹیسٹ مانگ میں عرضی داخل کی تھی لیکن فیملی کورٹ نے عرضی کرکے خارج کر دی تھی۔ ہائی کورٹ کے جسٹس وویک اگروال کی سنگل بنچ نے یہ حکم دیا ہے۔


جانیں کیا ہے پورا معاملہ
والد کے مطابق وہ 15 جنوری 2013 سے اپنی بیوی کے ساتھ نہیں رہ رہا تھا۔ اس کے بعد 25 جون 2014 کو دونوں کا طلاق ہو گیا۔ اس نے دعوی کیا کہ اس کی بیوی کے ساتھ کوئی تعلقات نہیں تھے۔ بیوی اپنے ماں کے گھر میں ہی رہ رہی ہے۔ 26 جنوری 2016 کو اس نے بچے کو جنم دیا۔ 15 جنوری 2013 کے بعد سے دونوں کے درمیان جسمانی تعلقان نہیں بنے۔ بچہ اس کا نہیں ہے جبکہ بیوی کا کہنا ہے بچہ اس کے شوہر کا ہی ہے۔ اس ے بعد شوہر نے فیملی کورٹ میں اپیل خارج ہونے کے بعد ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
Published by: sana Naeem
First published: Nov 18, 2020 05:39 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading