اپنا ضلع منتخب کریں۔

    دلت عیسائیوں ودلت مسلمانوں کودرج فہرست ذاتوں کی فہرست سےخارج کرنےکامرکزنےکیادفاع، آخرکیوں؟

    ’یہ ایک غیر معمولی نظریہ ہے‘۔

    ’یہ ایک غیر معمولی نظریہ ہے‘۔

    یہ حلف نامہ این جی او سینٹر فار پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن (CPIL) کی درخواست کے جواب میں داخل کیا گیا، جس میں اسلام اور عیسائیت اختیار کرنے والے دلت برادریوں کے لوگوں کو ریزرویشن اور دیگر فوائد میں توسیع کی درخواست کی گئ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Jammu | Hyderabad | Lucknow | Karnataka
    • Share this:
      مرکز نے دلت عیسائیوں اور دلت مسلمانوں کو درج فہرست ذاتوں (scheduled caste) کی فہرست سے خارج کرنے کا دفاع کیا ہے اور اس نے کہا ہے کہ تاریخی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دلت عیسائیوں اور دلت مسلمانوں کو کبھی پسماندگی یا جبر کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہ دعوی کرتے ہوئے کہ دلت عیسائی اور دلت مسلمان ان فوائد کا دعویٰ نہیں کر سکتے جس کے لیے درج فہرست ذاتیں حقدار ہیں، وزارت سماجی انصاف اور امپاورمنٹ نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ میں کہا کہ آئین (شیڈولڈ کاسٹ) آرڈر 1950 کسی غیر آئینی طور پر متاثر نہیں ہوتا ہے۔

      یہ حلف نامہ این جی او سینٹر فار پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن (CPIL) کی درخواست کے جواب میں داخل کیا گیا، جس میں اسلام اور عیسائیت اختیار کرنے والے دلت برادریوں کے لوگوں کو ریزرویشن اور دیگر فوائد میں توسیع کی درخواست کی گئ۔ وزارت نے یہ بھی پیش کیا کہ درج فہرست ذاتوں کی شناخت ایک مخصوص سماجی بدنامی کے گرد مرکوز ہے جو کہ آئین (شیڈولڈ کاسٹ) آرڈر 1950 میں شناخت شدہ کمیونٹیز تک ہی محدود ہے۔

      اچھوتوں کا تصور اور جابرانہ نظام:

      اس میں مزید کہا گیا کہ درحقیقت درج فہرست ذاتوں کے لوگ اسلام یا عیسائیت جیسے مذاہب میں تبدیل ہو رہے ہیں، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ اچھوت کے جابرانہ نظام سے باہر نکل سکیں جو کہ عیسائیت یا اسلام میں بالکل بھی رائج نہیں ہے۔ وزارت نے جسٹس رنگناتھ مشرا کمیشن کی اس رپورٹ سے بھی اتفاق کرنے سے انکار کر دیا جس میں دلت عیسائیوں اور دلت مسلمانوں کو درج فہرست ذاتوں کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی تھی اور کہا کہ یہ ایک غیر معمولی نظریہ ہے۔

      تبدیلی مذہب سے پسماندگی کا کیا تعلق؟

      حلف نامے میں کہا گیا کہ آئین (شیڈیولڈ کاسٹ) آرڈر 1950 کسی بھی غیر آئینی کیفیت کا شکار نہیں ہے کیونکہ عیسائیت یا اسلام کا اس قانون سے اخراج اس وجہ سے تھا کہ اچھوت کا جابرانہ نظام جو کچھ ہندو ذاتوں کی معاشی اور سماجی پسماندگی کا باعث بنتا ہے، وہ عیسائی یا اسلامی معاشروں میں رائج نہیں ہے۔ اس لیے انھیں تبدیلی مذہب کے بعد اس کا سامنے بھی نہیں کرنا پڑتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      آخر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حکم تاریخی اعداد و شمار پر مبنی ہے جس نے واضح طور پر ثابت کیا کہ عیسائی یا اسلامی معاشرے کے افراد کو کبھی بھی اس طرح کی پسماندگی یا جبر کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: