ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نعمتِ آزادی اور علماء کی قربانیاں

آزادی کے حصول کے لئے جن محبان وطن نے اپنا سب کچھ قربان کردیا ، جن لوگوں نے ہنستے ہنستے پھانسی کے پھندے چوم لئے، آج اس وطن کو ان کی آنکھوں سے دیکھنے اور محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔

  • Share this:
نعمتِ آزادی اور علماء کی قربانیاں
نعمتِ آزادی اور علماء کی قربانیاں

لکھنئو: علم و ادب کے اہم مرکز لکھنئو میں بھی یومِ آزادی کی تقریبات پورے جوش و خروش اور تزک و احتشام کے ساتھ منائی گئیں ۔ ہر چند کہ کورونا کے اثرات ان تقریبات پر صاف اور نمایاں طور پر دکھائی دئے ، لیکن شہیدانِ وطن کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے لوگوں کی آنکھیں نم بھی ہوئیں اور مختلف مدارس مکاتب اور اہم مقامات پر قومی ترانے کے گونج بھی سنائی دی ۔ معروف سماجی کارکن ، کئی مدارس کی مہتمم اور بزم اردو کی روحِ رواں طاہرہ رضوی نے اس موقع پر مدارس اسلامیہ کے بچوں کو بتایا  کہ آزادی کی بیش بہا نعمت یونہی نہیں حاصل ہوئی ہے ۔ اس کے حصول کے لئے ہزاروں علما نے جامِ شہادت نوش کئے ہیں،  ہزاروں لوگوں نے اپنی زندگیوں کے نذرانے پیش کئے ہیں ، سیکڑوں لوگوں نے اپنا سب کچھ قربان کیا ہے ، تب اس وطن عزیز کو آزادی نصیب ہوئی ہے۔


کہاں ہیں آج وہ شمعِ وطن کے پروانے،


بنے ہیں آج حقیقت انہی کے افسانے۔


طاہرہ رضوی نے ملک کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ آزادی کے حصول میں سبھی مذاہب اور قوموں کے لوگوں نے قربانیاں پیش کیں ، لیکن آج کچھ تنگ نظر لوگ ملک کی ایکتا اور یکجہتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ انہیں چاہئے کہ وہ ماضی پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ یہ ملک کس طرح جنت نشاں بنا ہے ۔ طاہرہ رضوی نے کہا کہ آج ان لوگوں کی بہت یاد آتی ہے ، جن کی نظروں میں ملک مذہب سے زیادہ عزیز تھا ۔ نہ کوئی ہندو تھا نہ مسلمان نہ سکھ نہ عیسائی بلکہ سب ہندوستانی تھے ۔

کہاں گئے وہ

وطن کی عصمت بچانے والے،

وقار و عظمت بڑھانے والے،

وفا کا پر چم اٹھانے والے،

انہیں بلاؤ ہم ان کی آنکھوں سے آج اپنے وطن کو دیکھیں،

کہاں گئے وہ جو داستان وفا کو اپنے لہو سے تحریر کررہے تھے،

جو اپنی آنکھوں کی قیمتوں پر بھی خواب تعبیر کر رہے تھے،

جو روشنی کے سفیر بن کر دلوں میں تنویر کر رہے تھے ،

وفا میں زنجیر ہو رہے تھے جفا کو زنجیر کر رہے تھے ،

کہاں گئے وہ قضا کو تسخیر کرنے والے،

انہیں بلاؤ ہم ان کی آنکھوں سے آج اپنے وطن کو دیکھیں۔

کہاں گئے وہ ستم کوغرقاب کرنے والے،

خزاں کو شاداب کرنے والے،

لہو کو سیلاب کرنے والے،

ہمیشہ آئیں گے یاد ہم کو ،

چراغِ ظلمت بجھانے والے،

لہو سے شمعیں جلانے والے،

فرنگیوں کو بھگانے والے،

صلیب و مقتل سجانے والے،

سبق وفا کا پڑھانے والے۔

کبھی نہ آئیں گے جانے والے۔۔۔۔

 

یومِ آزادی کے مبارک موقع پر لکھنئو کے مختلف مدارس میں جن گن من بھی پڑھا گیا اور سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا بھی فضا میں گونجتا رہا ۔
یومِ آزادی کے مبارک موقع پر لکھنئو کے مختلف مدارس میں جن گن من بھی پڑھا گیا اور سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا بھی فضا میں گونجتا رہا ۔


ملک پر قربان ہونے والے کبھی نہیں آئیں گے ، لیکن جب  تک ترنگا لہراتا رہے گا ، ہمارا قومی پرچم بلند رہے گا ، ان کی یاد اس ہوا اس فضا میں سفر کرتی رہے گی ۔

یومِ آزادی کے مبارک موقع پر لکھنئو کے مختلف مدارس میں جن گن من بھی پڑھا گیا اور سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا بھی فضا میں گونجتا رہا ۔ اس موقع پر مدرسہ جامعۃ النور اور دارالعلوم  فرنگی محل سمیت کئی اہم مدارس میں ملک کے امن و امان سلامتی ترقی یکجہتی  کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں ۔ ساتھ ہی کورونا کے خاتمہ کے لئے بھی مخصوص دعائیں کی گئیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 15, 2020 05:30 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading