உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راجیہ سبھا الیکشن: یوپی میں پریتی مہاپاترا کی اچانک انٹری نے بگاڑا کپل سبل کا کھیل

    لکھنؤ۔ آزاد امیدوار کے طور پر پریتی مہاپاترا کی نامزدگی کے ساتھ ہی یوپی میں راجیہ سبھا کا الیکشن اب دلچسپ ہو گیا ہے۔

    لکھنؤ۔ آزاد امیدوار کے طور پر پریتی مہاپاترا کی نامزدگی کے ساتھ ہی یوپی میں راجیہ سبھا کا الیکشن اب دلچسپ ہو گیا ہے۔

    • Share this:
      لکھنؤ۔ آزاد امیدوار کے طور پر پریتی مہاپاترا کی نامزدگی کے ساتھ ہی یوپی میں راجیہ سبھا کا الیکشن اب دلچسپ ہو گیا ہے۔ راجیہ سبھا کی 11 سیٹوں کے لئے اب 12 امیدوار میدان میں ہیں۔ ایسے میں نام واپسی تک اگر کسی امیدوار نے نام واپس نہیں لیا تو ووٹنگ طے مانی جا رہی ہے۔ پریتی کی امیدواری سے سب سے مشکل میں ہیں کپل سبل جنہیں راجیہ سبھا پہنچنے کے لئے ایس پی سے چھ ووٹوں کی مدد درکار ہے۔ لیکن سماج وادی پارٹی کے ایک باغی رام پال کھلے طور پر پریتی کی حمایت میں آ گئے ہیں۔ بی جے پی سمیت کئی جماعتوں کے تقریباً بیس ممبران اسمبلی پریتی مہاپاترا کی حمایت میں دکھائی دے رہے ہیں۔ پریتی اڑیسہ کے بڑے کاروباری کی بیوی ہیں اور انہیں پی ایم کے حامی کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

      پریتی گجرات کی وزیر اعلی آنندی بین پٹیل کے بھی کافی قریب ہیں۔ نامزدگی کے دوران پریتی کو بی جے پی کے علاوہ چھوٹی پارٹیوں اور آزاد ممبران اسمبلی کی زبردست حمایت ملتی نظر آئی۔ بی جے پی کے پانچ اور سماج وادی پارٹی کے باغی ممبر اسمبلی رام پال یادو سمیت بیس ارکان اسمبلی تو نامزدگی کے وقت ہی مہاپاترا کے ساتھ نظر آئے۔ پریتی کی امیدواری نے تمام جماعتوں کا حساب کتاب بگاڑ دیا ہے، وہیں خود پریتی مہاپاترا نے دعوی کیا ہے کہ ان کا بی جے پی سے کوئی رشتہ نہیں ہے، وہ یوپی کی خدمت کرنے آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں سب کی حمایت لینے کی کوشش کروں گی۔ یہاں کام کرنے آئی ہوں۔ سوشل سروس سے منسلک ہوں۔ بی جے پی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

      راجیہ سبھا کے لئے کل 11 سیٹوں پر اب 12 امیدوار میدان میں آ گئے ہیں۔ اگر اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو راجیہ سبھا نشست حاصل کرنے کے لئے 34 ممبران اسمبلی کے ووٹوں کی ضرورت ہے۔ جبکہ کانگریس کے پاس اسمبلی میں 29، بی جے پی کے پاس 42 اور بی ایس پی-ایس پی کے پاس 80 اور 229 ارکان اسمبلی ہیں۔ ایسے میں راجیہ سبھا انتخابات میں طے امیدواروں کی جیت کے لئے تمام جماعتوں کے درمیان کراس ووٹنگ کا امکان صاف نظر آرہا ہے۔ سب سے بڑی مشکل ہے کپل سبل کے سامنے۔ راجیہ سبھا پہنچنے کے لئے انہیں ایس پی-بی ایس پی سے پانچ ووٹوں کی درکار ہے۔ پر پریتی کی امیدواری نے خود ہی ان دونوں جماعتوں کی نیند اڑا دی ہے۔ لیکن ان سب کے درمیان سب سے پر اعتماد ہے بی جے پی اور اس کے امیدوار۔

      پریتی بھلے ہی بی جے پی سے کنارہ کشی کر رہی ہوں لیکن سیاسی گلیارے میں یہ مانا جا رہا ہے کہ وہ ایس پی اور بی ایس پی کا کھیل بگاڑنے آئی ہیں۔ بات چیت کے مطابق انتخابات قریب دیکھ کر ایس پی اور بی ایس پی کے کئی ارکان اسمبلی بی جے پی کے رابطے میں ہیں اور وہ موقع دیکھ کر کراس ووٹنگ بھی کر سکتے ہیں۔ ایسے میں ممبران اسمبلی کی خرید وفروخت کی بھی بحثیں چل پڑی ہیں۔ تاہم سب کو انتظار ہے تین جون کا جب نام واپسی کا آخری دن ہوگا۔
      First published: