ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

India China Faceoff: ہندستان نے ایل اے سی تنازعہ پر چین کے نئے بہانے کو کیا مسترد، بتائیں تین خاص وجہیں

ہندستان نے چین کی اس دلیل کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ 3,488 کلومیٹر طویل لائن آف ایکچول کنٹرول پر سرحدی بنیادی ڈھانچے کو اپڈیٹ کرنا فوجی کشیدگی کا ' سبب' ہے۔ ہندستان کا کہنا ہے کہ سرحد کے اس پار پیپلس لبریشن آرمی نے پہلے ہی تعمیرات کی ہیں اور سڑکوں اور کمیونکیشن نیٹ ورک کا کام جاری ہے۔

  • Share this:
India China Faceoff: ہندستان نے ایل اے سی تنازعہ پر چین کے نئے بہانے کو کیا مسترد، بتائیں تین خاص وجہیں
علامتی تصویر

نئی دہلی۔ ہندستان نے چین (India China Faceoff) کی اس دلیل کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ 3,488 کلومیٹر طویل لائن آف ایکچول کنٹرول پر سرحدی بنیادی ڈھانچے کو اپڈیٹ کرنا فوجی کشیدگی کا ' سبب' ہے۔ ہندستان کا کہنا ہے کہ سرحد کے اس پار پیپلس لبریشن آرمی (PLA) نے پہلے ہی تعمیرات کی ہیں اور سڑکوں اور کمیونکیشن نیٹ ورک کا کام جاری ہے۔


ہندستان ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایک سینئر آفیسر نے کہا ' پہلی بات وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے ذریعہ پیر کے روز افتتاح کئے گئے پل ایل اے سی سے دور ہیں جو سول موومنٹ اور ملٹری لاجسٹکس سہولت فراہم کریں گے۔ دوسرا، چین نے موجودہ فوجی۔ سفارتی سطح کی بات چیت میں ہندستان کے ذریعہ بنیادی ڈھانچہ میں کی جا رہی تبدیلی کا معاملہ نہیں اٹھایا ہے۔ تیسرا، ایل اے سی کے قریب پی ایل اے کی سڑک، پل، آپٹیکل فائبر، سولر۔ ہیٹیڈ ہٹس اور میزائل تعیناتی کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟ ایک سینئر آفیسر نے کہا کہ ہندستان صرف ایل اے سی میں اپنی سرحد کے اندر ہی بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر کر رہا ہے اور اس کے لئے ہمیں چین کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے'۔


آخر چین کیوں ہے اتنا پریشان؟


فوجی کمانڈروں کے مطابق، پی ایل اے نے گوگرا۔ ہاٹ اسپرنگس میں محفوظ کمیونکیشن کے لئے آپٹیکل فائبر لگائے ہیں۔ ساتھ ہی پینگونگ سو کے شمالی کنارے پر فارورڈ پوسٹ کے فوجیوں کے لئے رہائش کے طور پر سولر ہیٹیڈ کنٹینروں کا استعمال کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہاں ایک اسپتال بنایا ہے تاکہ اس کے کسی فوجی کو کچھ ہونے پر مدد مل سکے۔

چینی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ایل اے، لداخ میں ہندستانی بنیادی ڈھانچے کو بڑھانے پر اس لئے فکرمند ہے کیونکہ یہ پاکستان کے لئے اربوں ڈالر کے پاکستان معاشی کوریڈور یا سی پی ای سی کے لئے ایک فوجی خطرہ پیدا کر سکتا ہے جو کہ کھنجیر درہ اور پاکستان سے ہو کر گزرتا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 14, 2020 01:12 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading