ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہندستان۔ چین تنازعہ: ایل اے سی پر بڑھی کشیدگی، 45 سال میں پہلی بار ہندستانی اور چینی افواج کے بیچ فائرنگ کی خبر

جموں کشمیر کے لداخ میں ہندستان اور چین کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ پیر کے روز دیر رات پینگانگ تسو جھیل پر لائن آف ایکچول کنٹرول کے پاس ہندستان اور چین کی فوجیوں میں گولی باری کا واقعہ ہوا ہے۔

  • Share this:
ہندستان۔ چین تنازعہ: ایل اے سی پر بڑھی کشیدگی، 45 سال میں پہلی بار ہندستانی اور چینی افواج کے بیچ فائرنگ کی خبر
ہندستان۔ چین تنازعہ: ایل اے سی پر بڑھی کشیدگی، 45 سال میں پہلی بار ہندستانی اور چینی افواج کے بیچ فائرنگ کی خبر

نئی دہلی/ لداخ۔ جموں کشمیر کے لداخ (Jammu-Kashmir Ladakh) میں ہندستان اور چین کے درمیان کشیدگی (India-China Border Tension) بڑھتی جا رہی ہے۔ پیر کے روز دیر رات پینگانگ تسو (Pangong Tso) جھیل پر لائن آف ایکچول کنٹرول (LAC) کے پاس ہندستان اور چین کی فوجیوں میں گولی باری کا واقعہ ہوا ہے۔ چین کی سرکاری میڈیا ' گلوبل ٹائمس' نے ہندستانی افواج پر پینگانگ تسو کے جنوبی کنارے پر فائرنگ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ حالانکہ، فوج سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ چین کی طرف سے ہندستانی خطے میں پہلے فائرنگ کی گئی جس کے بعد ہندستان کی طرف سے جوابی کارروائی ہوئی۔ فی الحال صورت حال کنٹرول میں ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ 1975 کے بعد سرحد پر ہندستان اور چین کی افواج کے درمیان اس طرح سے پہلی بار فائرنگ ہوئی ہے۔


چینی وزارت دفاع، چینی پیپلز لبریشن آرمی کے ویسٹرن تھئیٹر کمان کے ترجمان کرنل جھانگ شوئلی کی طرف سے ایل اے سی پر تازہ صورت حال کو لے کر بیان جاری کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ہندستانی فوجیوں کی طرف سے مبینہ طور پر ' اکساوے' کی کارروائی کی گئی جس سے چینی افواج کی طرف سے جوابی کارروائی ہوئی۔



چینی میڈیا کے ترجمان نے الزام لگایا کہ جب چینی فوج کی گشتی پارٹی ہندستانی جوانوں سے بات چیت کرنے کے لئے آگے بڑھی تو انہوں نے جواب میں وارننگ شاٹ فائر کئے۔ ابھی تک چین کے اس بیان پر حکومت ہند یا ہندستانی فوج کی طرف سے کوئی رسمی بیان نہیں دیا گیا ہے۔

ایل اے سی پر 5 جون سے برقرار ہے کشیدگی
 بتا دیں کہ لائن آف ایکچول کنٹرول کے پاس دونوں ملکوں کی فوج کے بیچ طویل وقت سے کشیدگی برقرار ہے۔ دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان 5 جون کو گلوان وادی میں بڑی پرتشدد جھڑپ ہوئی تھی۔ اس میں ہندستانی فوج کے 20 جوان شہید ہو گئے تھے۔ چین کو بھی بھاری نقصان ہوا تھا۔ عالمی میڈیا میں کہا گیا تھا کہ اس جھڑپ میں چین کے 35 سے 40 فوجی مارے گئے ہیں لیکن چین نے اب تک اپنے مارے گئے فوجیوں کی تعداد نہیں بتائی ہے۔ تبھی سے دونوں طرف سے فوجی اور سفارتی سطح پر صورت حال کو معمول میں لانے کی کوشش جاری ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 08, 2020 08:02 AM IST