உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان نے چین کی سرکاری ایجنسی زنہوا کے تین صحافیوں کی ویزا کی مدت میں توسیع سے کیا انکار

     تاہم اس کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی ، لیکن بتایا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے انتباہات کے بعد لیا گیا ہے ۔

    تاہم اس کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی ، لیکن بتایا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے انتباہات کے بعد لیا گیا ہے ۔

    تاہم اس کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی ، لیکن بتایا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے انتباہات کے بعد لیا گیا ہے ۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : چین کی سرکاری نیوز ایجنسی ژنہوا کے تین صحافیوں کو ہندوستان نے 31 جولائی تک ملک چھوڑنے کیلئے کہہ دیا ہے ۔  یہ تینوں ان دنوں ہندوستان میں ہیں ۔ حکومت نے ان کے ویزا کی مدت میں توسیع سے انکار کیا ہے ۔ تاہم اس کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی ، لیکن بتایا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے انتباہات کے بعد لیا گیا ہے ۔  ہندوستان نے پڑوسی ملک چین کو لے کر ایسا قدم پہلی مرتبہ اٹھایا ہے ۔ ایسا بتایا جا رہا ہے کہ یہ تینوں صحافی کسی مشتبہ سرگرمی میں شامل تھے ۔

      ایسی رپورٹیں بھی ہیں کہ ان صحافیوں نے حال ہی میں بنگلور میں تبتی نژاد لوگوں سے ملاقات کی تھی ۔  سیکورٹی ایجنسیاں اسی بات سے ناراض بتائی جا رہی ہیں ۔ خیال رہے کہ جلاوطن تبتی حکومت کا ہیڈ کوارٹر ہماچل پردیش کے دھرم شالہ میں ہے ، لیکن ملک کے مختلف حصوں میں بھی ہزاروں کی تعداد میں تبتی رہتے ہیں ۔ یہ دہلی اور کرناٹک میں بھی آباد ہیں ۔

      حکومت نے سرکاری طور پر صرف انتا کہا ہے کہ یہ تینوں صحافی اپنی مقررہ مدت کے بعد بھی ہندوستان میں رہ رہے تھے ۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ ان صحافیوں نے دھرم شالہ جاکر تبتی مذہبی رہنما دلائی لامہ سے بھی ملاقات کی تھی ۔ ان سب کے ویزا کی مدت اس سال کے آغاز میں ہی ختم ہو گئی تھی لیکن اس کے بعد وہ باقاعدہ طور پر اس میں توسیع کروا رہے تھے ۔

      وہیں  مرکز کے اس فیصلے کے بعد چین کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں مزید بھی کھٹاس آ سکتی ہے ۔ چین نے این ایس جی میں ہندوستان کی رکنیت کی سخت مخالفت کی تھی ۔
      First published: