உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لندن میں مودی : دی گارجین میں ہندوستان میں ہندوطالبان کی حکومت سے متعلق مضمون پر بی جے پی بوکھلائی

    نئی : برطانیہ کے دورے پر گئے وزیر اعظم مودی کا جہاں ایک طرف گرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا جارہا ہے ، وہیں برطانوی میڈیا ان پر تنقید بھی کر رہی ہے۔

    نئی : برطانیہ کے دورے پر گئے وزیر اعظم مودی کا جہاں ایک طرف گرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا جارہا ہے ، وہیں برطانوی میڈیا ان پر تنقید بھی کر رہی ہے۔

    نئی : برطانیہ کے دورے پر گئے وزیر اعظم مودی کا جہاں ایک طرف گرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا جارہا ہے ، وہیں برطانوی میڈیا ان پر تنقید بھی کر رہی ہے۔

    • News18
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی : برطانیہ کے دورے پر گئے وزیر اعظم مودی کا جہاں ایک طرف گرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا جارہا ہے ، وہیں برطانوی میڈیا ان پر تنقید بھی کر رہی ہے۔ برطانیہ کے ایک معروف اخبار دی گارجین میں انیش کپور کے چھپے ایک مضمون پر بی جے پی نے شدید ردعمل کا اظہا رکیا ہے اور اسے ہندوستان کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔


      قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز اخبار دی گارجین میں شائع ہوئے ایک مضمون میں لکھا گیا ہے کہ ہندوستان میں 'ہندو طالبان تیزی سے پھیل رہا ہے۔ شخصی آزادی ختم ہونے اور عدم رواداری کے بڑھنے جیسے مسائل پر مودی کا ڈھلمل رویہ ہے۔ برطانیہ میں اس کے خلاف آواز اٹھائی جانی چاہئے۔


      مضمون کو ممبئی کے رہنے والے اور برطانیہ کے معروف قلمکار انیش کپور نے لکھا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ہندوستان 125 کروڑ کی آبادی والا ملک ہے۔ وہاں 96.5 کروڑ ہندو اور 17 کروڑ مسلمان ہیں۔ ہم نے صدیوں تک ظلم سہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ہم نے بھائی چارے اور اتحاد کی مثال پیش کی ہے۔ اگر ہندو شدت پسندی اسی طرح غالب ہوتی رہی، تو یہ ملک کے لئے خطرہ بن جائے گی۔


      مضمون میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں 'ہندو طالبان تیزی سے پھیل رہا ہے۔ وہاں اپنی بات کھل کر بولنے والے پر ظلم کئے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ ہی کئی مصنفین نے عدم رواداری کے خلاف اپنے ایوارڈ واپس کردئے۔ برطانیہ میں ہم اپنی زبان بند نہیں رکھ سکتے۔ ہمیں بولنے کی آزادی ہے اور یہ ہماری ذمہ داری بھی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ڈیوڈ کیمرون ہیومن رائٹس کو طاق پر رکھ کر کوئی بزنس ڈیل نہ کریں۔


      انیش کپور کے اس مضمون کی شدید تنقید کرتے ہوئے بی جے پی نے اسے ہندوستان کی توہین قرار دیا ہے۔ جبکہ کانگریس نے بی جے پی کی نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے اپنے دامن میں جھانکنے کی نصیحت کی ہے۔

      First published: