ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سونیا گاندھی نے کی ننکانہ صاحب گرودوارہ پر حملے کی شدید مذمت ، کہا : پاکستان پر دباو بنائے حکومت

سکھ عقیدتمندوں اور عملے کے تحفظ کے سلسلے میں تشویش ظاہر کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ حکومت ہند کو یہ معاملہ فوری طور پر پاکستان کی حکومت کے سامنے اٹھا کر عقیدت مندوں کے تحفظ کو یقینی بنا نا چاہئے ۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 04, 2020 10:28 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سونیا گاندھی نے کی ننکانہ صاحب گرودوارہ پر حملے کی شدید مذمت ، کہا : پاکستان پر دباو بنائے حکومت
سونیا گاندھی نے کی ننکانہ صاحب گرودوارہ پر حملے کی شدید مذمت ، کہا : پاکستان پر دباو بنائے حکومت

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے پاکستان میں سکھوں کے مقدس مقام گرودوارہ ننکانہ صاحب پر ہجوم کے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے اس معاملے کو پاکستان کے سامنے اٹھا کر عقیدتمندوں اور گورودوارے کے رضاکاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کہا ہے۔ سونیا گاندھی نے ہفتہ کی شب ایک بیان جاری کرکے کہا کہ مشتعل ہجوم کی جانب سے کیا گیا یہ حملہ قابل مذمت ہے ۔ سکھ عقیدتمندوں اور عملے کے تحفظ کے سلسلے میں تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کو یہ معاملہ فوری طور پر پاکستان کی حکومت کے سامنے اٹھا کر عقیدت مندوں کے تحفظ کو یقینی بنا نا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں یہ بھی یقینی بنا یا جانا چاہئے اور ملزمان کے خلاف فوری طور پر کاروائی ہونی چاہئے ۔


واضح رہے کہ پاکستان میں واقع سکھوں کے مقدس مقام ننکانہ صاحب گورودوارے پر جمعہ کو ہجوم نے پتھراؤ کیا ، جس کی وجہ سے پہلی مرتبہ سکھ مذہب کے بانی پہلے گرو نانک دیوجي کی جائے پیدائش پر بھجن اورکیرتن بند کرنا پڑا ۔ حکومت ہند نے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے پاکستان سے سکھوں کا تحفظ یقینی بنانے اور حملہ آوروں پر سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔


بی جے پی نے بھی کی شدید مذمت


ادھر بی جے پی نے گردوارہ پر حملے کو محمد علی جناح کے ’ڈائرکٹ ایکشن‘ کے حکم کی توسیع قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ۔ بی جے پی کے قومی سکریٹری ترون چوگھ اور ترجمان میناکشی لیکھی نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ دہلی کے شاہین باغ اور کیرالہ کے اسمبلی میں بیٹھے لوگوں کو سمجھ میں آجانا چاہئے کہ شہریت ترمیمی بل کیوں ضروری ہے۔

میناکشی لیکھی نے کہا کہ جمعہ کو ننکانہ صاحب پر حملہ بزدلی اور قابل مذمت ہے۔ وہ پاکستانی حکومت سے جاننا چاہتی ہے کہ سکھوں اور ان کے متبرک مقامات کی سلامتی کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایجنسیوں کو بھی حقوق انسانی کی بات کرنے سے پہلے دیکھنا چاہئے کہ پاکستان میں کیا چل رہا ہے۔ وہاں کس قسم سے اقلیتی برادری کی لڑکیوں کو اغوا کرکے ان کے مذہب کو تبدیل کرکے نکاح کرایا جاتا ہے۔
First published: Jan 04, 2020 10:28 PM IST