உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان نے افغانستان میں مسجد میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی، کہی یہ بڑی بات

    ہندوستان نے افغانستان میں مسجد میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی، کہی یہ بڑی بات

    ہندوستان نے افغانستان میں مسجد میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی، کہی یہ بڑی بات

    وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ہندوستان قندوز میں ایک شیعہ مسجد میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہے ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی  : ہندوستان نے افغانستان کے قندوز شہر میں پیر کے روز ایک شیعہ مسجد پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ہندوستان قندوز میں ایک شیعہ مسجد میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان افغانستان کے شہر قندوز میں ایک شیعہ مسجد میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہے ، جس میں 100 سے زائد افغانوں کی ہلاکت اور کئی دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے ۔ ہم اس مشکل وقت میں سوگوار کنبوں کے تئیں تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

      انہوں نے کہا کہ ہندوستان دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے لیے پرعزم ہے اور افغانستان میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی اہمیت کا اعادہ کرتا ہے۔ ہم افغانستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس حملے کے قصوروارں کی شناخت کی جائے گی اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔

      کی امریکہ اور برطانیہ کی شہریوں کو کابل کے ہوٹلوں سے دور رہنے ہدایت

      ادھر افغان صورت حال اور وہاں ہونے والے دھماکے پیش نظر امریکہ اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ افغانستان میں ہوٹلوں کو استعمال کرنے سے گریز کریں۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ان کی جانب سے یہ ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی جہاں چند روز قبل ہی ایک مسجد میں حملے کے نتیجے میں درجنوں افراد کی ہلاکت ہوئی تھی جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

      اس دھماکے اور وہاں ہونے والے متعدد دھماکے پیش نظر افغان کی سیکورٹی سے پہلے سے ہی فکر مند مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو وہاں کے ہوٹلوں سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے علاقے میں ’سیکیورٹی خطرات‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’امریکی شہری جو سرینا ہوٹل کے قریب ہیں، انہیں فوری طور پر وہاں سے چلے جانا چاہیے‘۔

      برطانیہ کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس نے کہا کہ ’بڑھتے ہوئے خطرات کی روشنی میں آپ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ ہوٹلوں میں نہ رہیں، خاص طور پر کابل میں (جیسے سرینا ہوٹل)‘۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: