உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حسین جہاں نے مانگی کرکٹرسمیع کے بند گھر کا دروازہ توڑنے کی اجازت

    ہندستانی کرکٹرمحمد سمیع کی بیوی حسین جہاں نے امروہہ کی مقامی پولیس سے درخواست کی ہے کہ انہیں محمد سمیع کے بند گھر کا دروازہ توڑنے کی اجازت دی جائے تاہم پولیس نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔

    ہندستانی کرکٹرمحمد سمیع کی بیوی حسین جہاں نے امروہہ کی مقامی پولیس سے درخواست کی ہے کہ انہیں محمد سمیع کے بند گھر کا دروازہ توڑنے کی اجازت دی جائے تاہم پولیس نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔

    ہندستانی کرکٹرمحمد سمیع کی بیوی حسین جہاں نے امروہہ کی مقامی پولیس سے درخواست کی ہے کہ انہیں محمد سمیع کے بند گھر کا دروازہ توڑنے کی اجازت دی جائے تاہم پولیس نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی:ہندستانی کرکٹرمحمد سمیع کی بیوی حسین جہاں نے امروہہ کی مقامی پولیس سے درخواست کی ہے کہ انہیں محمد سمیع کے بند گھر کا دروازہ توڑنے کی اجازت دی جائے تاہم پولیس نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔
      واضح رہے کہ اں کے اپنے شوہر محمد سمیع سےاختلافات چل رہے ہیں جس کی وجہ سے حسین جہاں انہیں ہر میدان میں ہزیمت سے دوچارکرنے پر تُلی ہوئی ہیں۔ حسین جہاں پیر کو امروہہ میں واقع محمد سمیع کے آبائی گاؤں پہنچ گئیں اور مقامی پولیس سے درخواست کی ہے کہ انہیں محمد سمیع کے بند گھر کا دروازہ توڑنے کی اجازت دی جائے۔تاہم پولیس نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔
      پولیس کا کہنا ہے کہ حسین جہاں کےہمراہ ان کی دوسالہ بیٹی اور وکیل ذاکر حسین بھی تھے۔محمد سمیع کے چچا محمد ضمیر نے میڈیا کو بتایا کہ حسین جہاں انہیں بتائے بغیر آئی ہیں۔وہ انہیں اپنے گھر میں خوش آمدید کہیں گے۔سمیع کے گھر والے گاؤں میں موجود نہیں ہیں ۔حسین جہاں چاہیں تو ان کے گھر میں ٹھہر سکتی ہیں۔
      حسین جہاں کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر بعد میں بات کریں گی۔ واضح رہے کہ کچھ دن پہلے انہوں نے سوشل میڈیا پرمحمد سمیع کے ڈرائیونگ لائسنس کا عکس شیئر کیا تھا اور لکھا تھا کہ محمد سمیع نے اپنی اصل عمر چھپاتے ہوئے ہندستانی کرکٹ بورڈ سے غلط بیانی کی ہے۔
      حسین جہاں، محمد سمیع پر غیرازدواجی تعلقات رکھنے، گھریلو تشدد کا مرتکب ہونے اور میچ فکسنگ جیسے الزامات بھی لگا چکی ہیں۔حسین جہاں کی شکایت پرمحمد سمیع کے خلاف ایف آئی آربھی درج ہو چکی ہے۔


       
      First published: