உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حکومت کی عوام و کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف شدید ہوتے احتجاجی مظاہرے

     آسمان چھوتی مہنگائی، بے لگام ہوتے جرائم اور جرائم پیشہ لوگ ، بڑھتی بے روزگاری غریبی اور کسانوں کے ساتھ نا انصافی جیسے موضوعات پر ایک بار پھر سماج وادی پارٹی کے ممبران اسمبلی اور اراکین نے احتجاج کے لے تیز کی۔۔

    آسمان چھوتی مہنگائی، بے لگام ہوتے جرائم اور جرائم پیشہ لوگ ، بڑھتی بے روزگاری غریبی اور کسانوں کے ساتھ نا انصافی جیسے موضوعات پر ایک بار پھر سماج وادی پارٹی کے ممبران اسمبلی اور اراکین نے احتجاج کے لے تیز کی۔۔

    آسمان چھوتی مہنگائی، بے لگام ہوتے جرائم اور جرائم پیشہ لوگ ، بڑھتی بے روزگاری غریبی اور کسانوں کے ساتھ نا انصافی جیسے موضوعات پر ایک بار پھر سماج وادی پارٹی کے ممبران اسمبلی اور اراکین نے احتجاج کے لے تیز کی۔۔

    • Share this:
    لکھنئو۔ آسمان چھوتی مہنگائی، بے لگام ہوتے جرائم اور جرائم پیشہ لوگ ، بڑھتی بے روزگاری غریبی اور کسانوں کے ساتھ نا انصافی جیسے موضوعات پر ایک بار پھر سماج وادی پارٹی کے ممبران اسمبلی اور اراکین نے احتجاج کے لے تیز کی۔۔ یہ احتجاج بھی نئے طریقے سے اس وقت شروع ہوا جب اسمبلی سیشن شروع ہونے سے عین قبل سماج وادی پارٹی کے تین ممبران اسمبلی نے گنوں سے لدی بیل گاڑی میں سوار ہوکر اسمبلی میں داخل ہونے کی کوشش کی ۔ جب پولس نے اسمبلی کے گیٹ پر بیل گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تو بیل گاڑی میں سوار سماج وادی پارٹی کے تینوں اسمبلی ممبران کی پولس اہلکاروں سے بحث ہوگئ۔ پولس اہلکاروں کے مطابق لکھنئو میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے جس کے تحت چار لوگوں سے زیادہ ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے جبکہ سماج وادی رہنماؤں کے مطابق وہ تین لوگ ہیں لہٰذا وہ یہاں بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کررہے ہیں۔ بحث گرم ہوئی تو خاموش مظاہرے نے باقاعدہ احتجاج کی شکل اختیار کی اور دیکھتے دیکھتے سیکڑوں لوگ جمع ہوگئے اور حکومت کی ناکامیوں اور بد عنوانیوں کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے۔

    بیل گاڑی میں سوار ،سنگرام سنگھ، راجیش یادو اور نریندر ورما کے مطابق یوگی قیادت والی موجودہ حکومت۔ ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے ۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے ملک کو کھوکھلا کر دیا ہے صرف عام آدمی سے ہی جینے کا حق نہیں چھینا گیا ہے بلکہ دیش کے انداتا کسان کو بھی تباہ و برباد کرنے کے لئے ان پر غیر ضروری قانون تھوپے گئے ہیں۔ راجیش یادو نے کہا کہ غریب آدمی دو وقت کی روٹی نہیں کما پارہاہے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ لاکھوں مزدور اور دستکار در در کی ٹھوکریں کھانے اور رکشہ چلانے کے لئے مجبور ہیں اور سرکار صرف جھوٹے دعوے کئے جارہی ہے ۔۔ سنگرام سنگھ نے اعظم خاں پر تھوپے گئے۔ ناجائز مقدمات ان کے افراد خاندان کا استحصال اور جوہر یونیورسٹی کی تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوگی حکومت سیاسی انتقام لینے اور سماج کے ایک خاص ورگ کو ستانے اور پریشان کرنے کے لئے آئین و دستور کے خلاف کام کررہی ئے۔

    سرکار کو نجی فائدہ پہنچانے والے سارے کام اور ریلیاں کبھی بھی کہیں بھی ہو سکتی ہیں لیکن سماج وادیوں کو مزدوروں اور کسانوں کے حق میں آواز اٹھانے کی بھی اجازت نہیں اس حکومت نے لوگوں سے احتجاج کا حق بھی چھین لیا ہے اگر کوئی دبا کچلا پریشان انسان اپنے حق مانگنے کے لئے آواز اٹھاتا ہے تو اسے پہلے پولس کا اتیاچار ، ظلم جھیلنا پڑتا ہے پھر اسے جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے ۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ سماج وادی پارٹی کے اراکین کے ساتھ کانگریس پارٹی کے لیڈروں اور اراکین نے بھی حکومت کے خلاف محاذ آرائی کرتے ہوئے جم کر نعرے بازی کی۔ پیٹرول ڈیزل دال چاول آٹے اور گیس کی بڑھتی قیمتوں پر حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے موجودہ مرکزی اور اتر پردیش کی حکومت کو ملک کی تاریخ کی بدترین حکومت قرار دیا ۔

    سماج وادی پارٹی کے اراکین کے غم و غصے اور شدید ہوتے مظاہروں سے یہ اشارے مل نے لگے ہیں کہ اب حزب اختلاف آر پار کی لڑائی کے موڈ میں ہے۔ ایک طرف بر سر اقتدار جماعت آئندہ الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے تو دوسری جانب سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے اراکین بھی اب سڑکوں پر اتر نے لگے ہیں تاہم بی ایس پی کی خاموش اور مصلحت آمیز سیاست ابھی شدت اختیار نہیں کر پائ ہے۔ دیکھنا یہی ہے کہ آنے والے وقت میں عوامی رجحان اوع سیلاب کس پارٹی کی قیادت پر اپنی مہر لگاتا ہے فی الحال تو عام لوگ مہنگائی اور کسان حکومت کی منفی کارگرمائ سے خاصے ناراض ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: