ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شاہین باغ احتجاج: مصالحت کاروں نے سپریم کورٹ کو سونپی رپورٹ، اب 26 فروری کو ہو گی سماعت

شاہین باغ میں جاری سی اے اے مخالف احتجاجی مظاہرہ اور سڑک بند رکھنے کے معاملہ میں تینوں مصالحت کاروں نے سپریم کورٹ کو ایک مہربند لفافے میں اپنی رپورٹ سونپ دی ہے۔

  • Share this:
شاہین باغ احتجاج: مصالحت کاروں نے سپریم کورٹ کو سونپی رپورٹ، اب 26 فروری کو ہو گی سماعت
شاہین باغ میں جاری ہے مظاہرہ ۔ فائل فوٹو ۔ پی ٹی آئی ۔

نئی دہلی۔ شہریت ترمیمی قانون ، این پی آر اور این آر سی کے خلاف شاہین باغ میں جاری احتجاجی مظاہرہ اور سڑک بند رکھنے کے معاملہ میں تینوں مصالحت کاروں نے سپریم کورٹ کو ایک مہربند لفافے میں اپنی رپورٹ سونپ دی ہے۔ سپریم کورٹ نے معاملہ کو 26 فروری ( بدھ کے روز) تک کے لئے ملتوی کر دیا ہے۔ بتا دیں کہ شاہین باغ میں دو مہینے سے زائد مدت سے مظاہرین سڑک پر احتجاج کر رہے ہیں۔ اس سے دہلی۔ نوئیڈا روٹ ٹھپ ہو گیا ہے۔ اس سڑک کو کھلوانے کے لئے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی تھی۔ اس پر سپریم کورٹ نے معاملہ کو حل کرنے کے لئے سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندرن کو مصالحت کار مقرر کیا تھا۔ اب انہوں نے اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ کو سونپ دی ہے۔




اس سے پہلے سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مصالحت کار مسلسل چار بار مظاہرہ گاہ پر گئے تھے۔ وہیں، مصالحت کاروں کا تعاون کرنے والے سابق چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ نے اس معاملہ میں ایک حلف نامہ بھی دائر کیا تھا۔ اپنے حلف نامہ میں حبیب اللہ نے دہلی پولیس کو کٹہرے میں کھڑا کیا تھا۔


سابق چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ نے متعلقہ علاقے میں پولس کے ذریعہ کی گئی پانچ جگہ کی ناکہ بندی کو راہ گیروں کو ہونے والی پریشانیوں کی اہم وجہ بتایا ہے۔ حبیب اللہ نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرکے شاہین باغ علاقے میں دہلی پولس کی پانچ جگہ پر ناکہ بندی کو بے وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شاہین باغ میں پرامن مظاہرہ ہورہا ہے۔ پولس بند راستے کھولے تو آمدورفت معمول کے مطابق ہوجائے جس سے لوگوں کو پریشانی ہورہی ہے۔ انہوں نے شاہین باغ علاقے میں پولس کے ذریعہ راستہ بند کرنا غیرضروری قرار دیا اور کہا کہ پولس جانچ کے بعد اسکول وین اور ایمبولنس کو ان سڑکوں سے گذرنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی اے اے، نیشنل پاپولیشن رجسٹر(این پی آر) اور قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) پر حکومت کو مظاہرین سے بات چیت کرنی چاہئے۔
First published: Feb 24, 2020 01:12 PM IST