ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

انٹرویو: مودی حکومت میں مسلمانوں کے اندر خوف ودہشت کا احساس ختم ہوا ہے: نجمہ ہپت اللہ

سینئر بی جے پی لیڈر اور اقلیتی امور کی وزیر نجمہ ہپت اللہ کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی حکومت نے گزشتہ دو برسوں میں اقلیتوں میں اعتماد کا ماحول بہتر بنانے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: May 26, 2016 06:08 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
انٹرویو: مودی حکومت میں مسلمانوں کے اندر خوف ودہشت کا احساس ختم ہوا ہے: نجمہ ہپت اللہ
سینئر بی جے پی لیڈر اور اقلیتی امور کی وزیر نجمہ ہپت اللہ کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی حکومت نے گزشتہ دو برسوں میں اقلیتوں میں اعتماد کا ماحول بہتر بنانے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔

سینئر بی جے پی لیڈر اور اقلیتی امور کی وزیر نجمہ ہپت اللہ کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی حکومت نے گزشتہ دو برسوں میں اقلیتوں میں اعتماد کا ماحول بہتر بنانے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ 2004  میں کانگریس چھوڑ بی جے پی میں شامل ہوئیں نجمہ نے پردیش 18، اردو کے ساتھ تفصیلی بات چیت میں اپنی حکومت کے خلاف فرقہ پرستی کے الزامات کا موثر طریقہ سے دفاع کیا اور اپنی وزارت کی دو سالہ حصولیابیوں، مستقبل کے منصوبوں اور بی جے پی اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ پیش ہیں اس بات چیت کے چند اہم اقتباسات:۔


سوال: اقلیتی وزیر کی حیثیت سے آپ نے مرکز میں دو سال پورے کر لئے ہیں۔ اس دوران اقلیتی امور کی وزارت کی کیا حصولیابیاں رہی ہیں؟


جواب: دیکھئے، ہمارے یہاں چھ اقلیتیں ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان چھ اقلیتوں کے ایشوز الگ الگ ہیں۔ چنانچہ ہم نے ان کی فلاح وبہبود کے لئے الگ الگ پروگرام بنائے ہیں۔ کیونکہ ایک ہی پروگرام سب پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ بی جے پی کے انتخابی منشور میں تعلیم پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے، اس پر عمل کرتے ہوئے ہماری وزارت نے اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کی تعلیم کے میدان میں سب سے زیادہ مدد اور حوصلہ افزائی کا عمل شروع کیا ہے۔ اس میں ہمیں خاطر خواہ کامیابی بھی ملی ہے۔ ہمارا دوسرا ہدف اسکل ڈیولپمنٹ ہے۔ اس کے لئے مولانا آزاد نیشنل اکیڈمی فار اسکلس قائم کر کے مختلف ہنر کو فروغ دینے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ ان سے بڑی تعداد میں اقلیتوں اور مسلمانوں کے بچے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم کا نیا پندرہ نکاتی پروگرام اقلیتوں کی ترقی میں اہم رول ادا کر رہا ہے۔ اس کے تحت اقلیتوں کے غلبہ والے علاقوں میں تیز رفتاری سے ترقیاتی کام ہو رہے ہیں۔ ہم نے اقلیتوں کی تعلیم، ترقی اور تحفظ پر زیادہ زور دیتے ہوئے ان کو بااختیار بنانے کے پروگراموں اور منصوبوں کو زمین پر اتارنے کا کام کیا ہے۔


سوال: مسلمان تعلیمی اور معاشی اعتبار سے پسماندہ ہیں۔ ان کی اس پسماندگی کو دور کرنے کے لئے اب تک آپ نے کیا کیا اقدامات کئے ہیں؟

جواب: یہ سچ ہے کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ تعلیمی پسماندگی ہے۔ اس کی وجہ سے وہ معاشی اعتبار سے بھی پیچھے ہیں۔ اور اسی وجہ سے وہ سماج میں الگ تھلگ ہو گئے ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں تعلیمی طور پر آگے بڑھائیں اور اس سلسلہ میں ہم کافی کچھ کر رہے ہیں۔ ہم پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک وغیرہ میں لاکھوں بچوں کو اسکالرشپ دیتے ہیں۔ ہم نے گزشتہ دو سال میں کئی تبدیلیاں کی ہیں۔ اسکالرشپ کی تقسیم کے نظام میں شفافیت لائی گئی ہے اور فوائد کی براہ راست منتقلی کے تحت رقم سیدھے مستحقین کے بینک کھاتوں میں پہنچائی جاتی ہے۔ آدھار کارڈ میں جو کمیاں تھیں، ان کو دور کر کے اس کے ذریعہ ہم نے ڈپلی کیشن کو ختم کیا ہے۔ ہمارے دوسرے پروگرام کے تحت مسلمانوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ  ان کی اسکل ڈیولپمنٹ پر بھی خاصا زور دیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد انہیں صدیوں پرانے اور روایتی ہنر کی جدید ترین انداز میں تربیت دے کر انہیں روزگار حاصل کرنے کے قابل بنانا ہے۔

ہماری وزارت جہاں نئی روشنی، مشن امپاورمنٹ، استاد، ہماری دھروہر، پڑھو پردیس، سیکھو اور کماو اور جیوپارسی جیسی اسکیمیں چلا رہی ہے وہیں، نئی منزل کے نام سے ایک ایسی اسکیم چلا رہی ہے جس کے تحت اسکولوں سے ڈراپ آوٹ بچوں کو برج کورس کے ذریعہ اپنی تعلیم کے سلسلہ کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ نئی منزل اسکیم کے تحت مدارس کے بچوں کو ہر ریاست کی ضرورت اور روزگار کے مواقع کے لحاظ سے ہنر سکھا کر انہیں باعزت روزگار کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔ کشمیر، اترپردیش، بہار، مہاراشٹر اور آسام سمیت کئی ریاستوں میں نئی منزل اسکیم کے تحت ہنر کی تربیت دی جا رہی ہے اور آٹھ ریاستوں میں بتیس مدارس کے چوبیس ہزار آٹھ سو بچے اس اسکیم سے مستفید ہو چکے ہیں۔

سوال: آپ نے کہا کہ مسلمان تعلیمی اور معاشی اعتبار سے پیچھے ہیں اس لئے وہ سماج میں الگ تھلگ ہو گئے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کا احساس ہے کہ وہ گزشتہ دو برسوں میں مودی حکومت میں الگ تھلگ ہو گئے ہیں؟

جواب: نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ دیکھئے، نریندر مودی کے وزیراعظم بننے سے پہلے یہ ماحول بنانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ان کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہو گی، ان پر زیادتی ہو گی، انہیں ان کے حقوق سے محروم کردیا جائے گا، وغیرہ وغیرہ۔ نیز اس خدشہ کا اظہار بھی کیا گیا کہ اقلیتی وزارت کا وجود ہی ختم کر دیا جائے گا۔ لیکن ان تمام تر خدشات اور قیاس آرائیوں کو درکنار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ‘‘ سب کا ساتھ، سب کا وکاس’’ کا نعرہ دیا اور وزیراعظم کی زیر قیادت بی جے پی حکومت سماج کے تمام طبقات کے ساتھ برابری کا رویہ اپنائے جانے کے اپنے وعدہ پر بخوبی کام کر رہی ہے۔ مزید برآں، مودی حکومت نے اقلیتی وزارت کو ختم کرنے کی بجائے اس سال اس کے بجٹ میں نوے کروڑ روپئے کا اضافہ کر مسلمانوں کے دل جیت لئے۔ رہی بات مسلمانوں کے الگ تھلگ ہوجانے کی تو مسلمان تو آزادی کے بعد سے ہی سابقہ کانگریسی حکومتوں کی پالیسیوں کی وجہ سے الگ تھلگ ہو گئے تھے۔ سابقہ حکومتوں نے انہیں معاشی اور تعلیمی میدان میں پیچھے چھوڑ دیا تھا، اس لئے اس دور میں انہوں نے خود کو الگ تھلگ محسوس کیا۔ اب ایسی صورت حال نہیں ہے۔ اب دیگر تمام طبقات کے ساتھ انہیں بھی یکساں مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں۔

سوال: لیکن بی جے پی کے کئی لیڈران مسلمانوں کے خلاف مسلسل اشتعال انگیز بیانات دیتے رہتے ہیں، انہیں پاکستان بھیجے جانے کی باتیں کرتے ہیں اور ان باتوں کا بی جے پی اعلیٰ کمان کوئی نوٹس بھی نہیں لیتا۔ آخر ایسا کیوں؟

جواب: دیکھئے، اس طرح کی کچھ باتیں شروع شروع میں سامنے آئی تھیں۔ وہ دراصل ایکشن کا ری ایکشن تھیں۔ اب تو ایسا بالکل بھی نہیں ہو رہا ہے۔ جب الیکشن آیا تو دوسری پارٹیوں کی طرف سے اس طرح کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی اور اس کے جواب میں کچھ باتیں کہی گئیں۔ اس کے باوجود ہمارا فرض ہے کہ ہم ملک میں اچھے اور خوشگوار ماحول قائم کریں۔ ہم ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی خیر سگالی برقرار رکھنے کے تئیں پابند عہد ہیں۔ لال قلعہ کی فصیل سے وزیر اعظم نے جو تقریر کی، پارلیمنٹ میں انہوں نے جو خطاب کیا، نئی دہلی کے وگیان بھون میں عیسائیوں کے اجلاس میں جو باتیں کیں اور پھر مسلمانوں کے اجتماع سے جو انہوں نے خطاب کیا، ان سب میں وزیراعظم نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیا اور سبھی مذاہب کے ماننے والوں کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی تاکید کی۔ لہذا ، وزیراعظم کی ان باتوں پر ہمیں دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ جب تک ہم سبھی کو ساتھ لے کر نہیں چلیں گے، ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ دیکھئے، سابقہ حکومتوں میں کئی کئی فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اور ان میں زبردست جانی ومالی نقصان ہوا۔ لیکن مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے فرقہ وارانہ فسادات کی تعداد میں زبردست کمی آئی ہے۔ میں پورے وثوق سے یہ کہنا چاہوں گی کہ مودی حکومت کے اس دو سال میں مسلمانوں میں اعتماد پیدا ہوا ہے۔ مودی حکومت کے تئیں ان کے جو خدشات اور اندیشے تھے، وہ دور ہوئے ہیں۔

Muslims-In-India1

سوال: لیکن مرکز کی مودی حکومت پر مسلمانوں کو نظرانداز کرنے کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔ اقلیتی اور ایک مسلم وزیر ہونے کی حیثیت سے آپ ان الزامات سے کس طرح نمٹتی ہیں؟

جواب: دیکھئے، یہ الزامات غلط ہیں۔ جب میں نے اپنا عہدہ سنبھالا تو اسی وقت وزیر اعظم نے مجھ سے کہا کہ مسلمانوں کو گزشتہ حکومتوں میں روزی، روٹی، کپڑا اور مکان  سے محروم کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم جو بات کہنا چاہتے تھے وہ میں سمجھ گئی اور میں اب اسی سمت میں آگے بڑھ رہی ہوں۔

سوال: مرکزی حکومت نے علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے اقلیتی کردار کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی ہے۔ آپ کی نظر میں کیا اے ایم یو اقلیتی ادارہ نہیں ہے؟

جواب: دیکھئے، اے ایم یو کے اقلیتی کردار کا معاملہ عدالت میں زیر غور ہے۔ مزید یہ کہ یہ معاملہ ہماری وزارت کے تحت نہیں آتا، اس لئے اس پر ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔

سوال: لیکن اقلیتی وزیر کی حیثیت سے میں آپ سے اس بارے میں کچھ جاننا چاہتا ہوں۔

جواب: معاملہ عدالت میں زیر غور ہے اور ہمیں عدالت کے فیصلہ کا انتظار کرنا چاہئے۔

سوال: آسام میں بی جے پی کی جیت میں کیا مسلمانوں کی حصہ داری رہی ہے؟

جواب: بالکل رہی ہے۔ مسلمانوں نے ہماری مخالفت نہیں کی اور انہوں نے ہمیں ووٹ بھی دئیے۔

سوال: مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں پھنسایا جاتا ہے اور پھر انہیں باعزت بری کردیا جاتا ہے، اس پرآپ کا کوئی ردعمل؟

جواب: دیکھئے، دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ کسی بھی بے قصور نوجوان کو دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں پھنسایا نہیں جانا چاہئے اور جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے اس کی تشہیر نہیں کی جانی چاہئے۔

سوال: آپ ایک خاتون وزیر ہیں۔ سماج میں خواتین کی حالت میں بہتری کے لئے آپ کیا کر رہی ہیں؟

جواب: اقلیتی وزارت میں خواتین کی فلاح وبہبود پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقلیتوں سے متعلق جتنی بھی اسکیمیں ہیں ان میں سے ہر اسکیم میں خواتین کا چھیالیس فیصد حصہ ہے۔

سوال: وزیراعظم مودی کو ایک متحرک اور فعال وزیراعظم مانا جا رہا ہے۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اور ان کے ساتھ کام کرنے کا آپ کا ذاتی تجربہ کیسا رہا؟

جواب: اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم ایک فعال اور محنتی وزیر اعظم ہیں۔ انہیں اپنے کام کے تئیں جنون ہے۔ ہمیں ان کی محنت سے ترغیب ملتی ہے۔

ندیم احمد کے ساتھ بات چیت پر مبنی

 

 
First published: May 26, 2016 06:00 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading