ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی سرکار کے افسران نے فساد متاثرین کو معاوضہ سے محروم رکھنے کے لئے منمانی کی 

دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی نے 2 ستمبر کو اقلیتی فلاحی کمیٹی کی ہونے والی میٹنگ میں وقف بورڈ کے سی ای او تنویر احمد کو ایسے تمام متاثرین کی درخواستوں کی تصدیق کرنے اور حقیقت حال کا پتہ لگانے کا کام حوالے کیا تھا ، جن کے معاوضہ کی درخواستوں کو انتظامیہ نے نامعلوم وجوہات کی بناپر رد کردیا۔

  • Share this:
دہلی سرکار کے افسران نے فساد متاثرین کو معاوضہ سے محروم رکھنے کے لئے منمانی کی 
دہلی سرکار کے افسران نے فساد متاثرین کو معاوضہ سے محروم رکھنے کے لئے منمانی کی 

دہلی فساد متاثرین کو راحت رسانی میں عدم شفافیت ، منمانی اور لاپروائی کا ایک اور پہلو سامنے آیا ہے ۔ دہلی وقف بورڈ کے ذریعہ کی جا رہی مسترد کر دی گئی 748 معاوضہ درخواستوں کی اسٹڈی میں دہلی انتظامیہ کے افسران کے لاپروائی اور منمانی کا انکشاف ہوا ہے ۔ حالانکہ ابھی دہلی وقف بورڈ نے 160 معاملات کی اسٹڈی کی رپورٹ ہی دہلی اسمبلی اقلیتی فلاحی کمیٹی کو پیش کی ہے ۔ دراصل دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی نے دہلی وقف بورڈ کو ان فساد متاثرین کا سروے اور تصدیق کرنے کا کام حوالے کیا ہے ، جن کے معاوضہ کی درخواستیں مختلف وجوہات کی بناپر رد ہوگئی ہیں ۔


اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی نے 2 ستمبر کو اقلیتی فلاحی کمیٹی کی ہونے والی میٹنگ میں وقف بورڈ کے سی ای او تنویر احمد کو ایسے تمام متاثرین کی درخواستوں کی تصدیق کرنے اور حقیقت حال کا پتہ لگانے کا کام حوالے کیا تھا ، جن کے معاوضہ کی درخواستوں کو انتظامیہ نے نامعلوم وجوہات کی بناپر رد کردیا۔


تفصیلات کے مطابق وقف بورڈ کو کل 748 ایسے متاثرین کی لسٹ حوالے کی گئی ہے ، جن کے معاوضہ کی درخواستیں رد ہوچکی ہیں اور انھیں معاوضہ کے نام پر ایک پائی بھی نہیں ملی ہے ۔ اس سلسلہ میں سرگرمی دکھاتے ہوئے دہلی وقف بورڈ کے عملہ نے سی ای او تنویر احمد کی ہدایت پر سیکشن افسر حافظ محفوظ محمد کی نگرانی میں رد ہونے والی درخواستوں کی باریکی سے چھان بین اور تصدیق کا کام شروع کیا اور اب تک کل 160 ایسے متاثرین کی نشاندہی کی ، جن کی درخواستیں رد ہوچکی تھیں ۔


وقف بورڈ کی ٹیم نے آئی ٹی انچارج محمدعمران کی قیادت میں متاثرین کو فون کرکے معاوضہ کے سلسلہ میں ان کے ذریعہ دیئے گئے دستاویز طلب کئے ، جس کے بعدان کا باریکی سے مطالعہ کیا اور صحیح صورت حال سے واقفیت کے بعد دوبارہ سے ان سے درخواستیں حاصل کیں ، جس کے بعد انھیں 16 ستمبر کو ہونے والی اقلیتی فلاحی کمیٹی کی میٹنگ میں ٹیبل پر رکھا گیا ۔ جبکہ باقی لوگوں کی تصدیق کا کام ابھی جاری ہے ۔ ایک سو ساٹھ کیسوں کی اسٹڈی میں کئی معاملات ایسے سامنے آئے ، جن میں متاثرین کو فون کیا گیا ۔ لیکن وہ کال ریسیو نہیں کر سکے ، جس کے بعد ان کی درخواست مسترد کر دی گئی ۔ کئی معاملات ایسے سامنے آئے ، جن میں متاثرین کو اس لیے معاوضہ نہیں دیا گیا ، کیوں کہ انہوں نے خود سے اپنے دوکان و مکان کی مرمت کرالی تھی ۔ فوٹوگراف ، ایف آئی آر اور ویڈیو تمام چیزیں موجود ہونے کے باوجود اور ان کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا ۔

وقف بورڈ کے ذریعہ تصدیق کے بعد پیش کی گئی نئی لسٹ پر کمیٹی کے چیئرمین امانت اللہ خان نے میٹنگ میں موجود افسران کو ایسے تمام لوگوں کا دوبارہ سروے کرنے اور معاوضہ کے لئے ازسر نو غور کرنے کی ہدایت دی ہے۔ خیال رہے کہ سال کے شروع میں دہلی کے شمال مشرقی علاقہ میں ہونے والے فسادات میں لوگوں کا کافی جان و مال کا نقصان ہوا تھا ، جس کی تلافی کے لئے دہلی حکومت نے معاوضہ کا اعلان کیا تھا ۔ متاثرین کو معاوضہ کی تقسیم اور سروے کا کام متاثرہ علاقوں کے ضلع مجسٹریٹ اور نائب ضلع مجسٹریٹوں کے ذریعہ انجام پایا تھا ، جس میں کافی لوگوں کو معاوضہ ملا مگر ایک بڑی تعداد ایسے متاثرین کی سامنے آئی جن کی درخواستوں کو انتظامیہ نے رد کردیا ۔

رد ہوئی درخواستوں اور معاوضہ کی تقسیم میں خامیوں کی نشاندہی دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی کے علم میں بھی آئی،  جس کے چیئرمین دہلی وقف بورڈ کے سابق چیئرمین امانت اللہ خان ہیں ۔ کمیٹی نے گزشتہ 2 ستمبر کو انتظامیہ اور اعلی افسران کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں اس معاملہ پر بحث کی اور معاوضہ کی تقسیم میں اتنی بڑی تعداد کی درخواستیں رد ہونے کی وجہ جاننا چاہی ۔ میٹنگ میں موجود افسران نے اس معاملہ میں سروے کرنے والے پی ڈبلیوڈی افسران پر ذمہ داری ڈالتے ہوئے پلہ جھاڑنے کی کوشش کی ۔ تب کمیٹی کے چیئرمین امانت اللہ خان نے رد ہوئی درخواستوں کی ازسر نو تصدیق کرنے اور درخواستوں کے رد ہونے کے اسباب کا پتہ لگانے کام دہلی وقف بورڈ کے حوالے کیا ۔

دراصل میٹنگ میں دہلی وقف بورڈ کے سی ای او تنویر احمد کو بھی طلب کیا گیا تھا ، جنھیں ایسی تمام درخواستوں پر کام کرکے حقیقت حال جاننے کا کام سونپا گیا تھا ۔  جبکہ متاثرین کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے ، جن کا نقصان لاکھوں میں ہوا ہے مگر معاوضہ کے نام پر انھیں محض چند ہزار روپے ہی انتظامیہ نے دئے ہیں ۔ ایسے تمام لوگوں کی شکایات دور کرنے اور حقیقت حال کا پتہ لگانے کا کام دہلی اقلیتی کمیشن کے حوالے کیا گیا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 18, 2020 09:02 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading