உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پیغام آفاقی کی وفات اردو فکشن کا بڑا خسارہ : پروفیسر ارتضیٰ کریم

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    معروف فکشن نگار اور مکان وپلیتہ جیسے شہرہ آفاق ناولوں کے خالق پیغام آفاقی کی وفات کو قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اردو فکشن کا بڑا خسارہ قرار دیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : معروف فکشن نگار اور مکان وپلیتہ جیسے شہرہ آفاق ناولوں کے خالق پیغام آفاقی کی وفات کو قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اردو فکشن کا بڑا خسارہ قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ پیغام آفاقی ایک جنوئین فکشن نگار تھے جن کے اندر غیر معمولی ادراکی بصیرت تھی۔ انہوں نی کہا کہ ادب کے مسائل اور مباحث پر ان کی گہری نظر تھی ۔مقامی، قومی اور عالمی مسائل اور موضوعات سے بھی وہ اچھی طرح واقف تھے اور ان مسائل کو انھوں نے اپنے فکشن کا محور و مرکز بھی بنایا۔
      پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ ان کے ناول مکان کوفکشن میںآفاقی حیثیت حاصل ہے۔فکشن کے بیشتر نقادوں نے اس ناول کو اپنے تنقیدی مبحث میں شامل رکھا اور اسے اردو فکشن کا ایک نیا تجربہ قرار دیا۔انھوں نے مزیدکہا کہ پیغام آفاقی کا دائرہ صرف فکشن تک محدود نہیں تھا بلکہ شاعری اور تنقید سے بھی ان کا گہرا لگاؤ تھا ۔ ان کی تنقید میں دانشورانہ جھلک ملتی ہے۔ وہ معروضی و منطقی انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے ۔ ان کے شعری مجموعے درندے کو بھی ادبی حلقے میں کافی سراہا گیا اور افسانوی مجموعے مافیا کو بھی کافی شہرت نصیب ہوئی۔پیغام آفاقی سے اپنے نجی مراسم کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پیغام آفاقی اسم با مسمّیٰ تھے اور اردو کے فروغ کا پرخلوص جذبہ رکھتے تھے ۔ فروغ اردو کی امکانی صورتوں کے حوالے سے ان سے اکثر گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ قومی اردو کونسل کی میٹنگوں میں وہ شریک ہوکر اپنے مفید مشوروں سے بھی نوازتے رہتے تھے۔
      پروفیسر ارتضیٰ کریم نے پیغام آفاقی کی وفات کی خبر سنتے ہی میکس ہاسپٹل شالیمار باغ، نئی دہلی جاکر ان کے پسماندگان سے تعزیت کا اظہار کیا۔ان کے علاوہ اسپتال پہنچ کر تعزیت کرنے والوں میں ڈاکٹر نگار عظیم، حقانی القاسمی ،ڈاکٹر مشتاق قادری اور ڈاکٹر عبدالحی شامل تھے۔ واضح رہے کہ صبح ساڑھے پانچ بجے پیغام آفاقی نے آخری سانس لی۔ ان کے اہل خانہ جسد خاکی کو لے کر ان کے آبائی وطن سیوان کے لیے روانہ ہوگئے جہاں کل ان کی تدفین عمل میں آئے گی۔
      First published: