உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Har Ghar Tiranga: یوم آزادی کے بعد قومی پرچموں کا کیا کیا جائے؟ جانیے ضروری باتیں

    ایم سی ڈی نے ایک بیان میں کہا کہ ایم سی ڈی قومی پرچم کو تمام اہمیت دیتا ہے

    ایم سی ڈی نے ایک بیان میں کہا کہ ایم سی ڈی قومی پرچم کو تمام اہمیت دیتا ہے

    ایک سرکاری بیان کے مطابق شہری ایم سی ڈی کی ویب سائٹ پر جا کر علاقے کے متعلقہ سینیٹری انسپکٹر، اسسٹنٹ سینیٹری انسپکٹرز کے ساتھ ساتھ 'صفائی فوجیوں' سے ان کے فون نمبروں پر براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔

    • Share this:
      دہلی میونسپل کارپوریشن (Municipal Corporation of Delhi) نے اتوار کے روز کہا کہ وہ فلیگ کوڈ میں دی گئی دفعات کے مطابق تباہ شدہ یا بکھرے ہوئے جھنڈوں کو وقار اور احترام کے ساتھ مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کو یقینی بنائے گی۔ یوم آزادی (Independence day) کی تقریبات اور 'ہر گھر ترنگا' (Har Ghar Tiranga) مہم کے بعد شہری عہدیداروں نے بتایا کہ اپنے علاقے کے سینیٹری انسپکٹرز یا 'صفائی فوجیوں' کی مدد سے قومی پرچم کو زونل آفس میں جمع کرا سکتے ہیں۔

      ایم سی ڈی نے ایک بیان میں کہا کہ ایم سی ڈی قومی پرچم کو تمام اہمیت دیتا ہے اور فلیگ کوڈ میں دی گئی دفعات کے مطابق وقار اور احترام کے مطابق تباہ شدہ، بکھرے ہوئے یا گندے جھنڈے کو ٹھکانے لگانے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ ہر کسی سے قومی پرچم کے احترام اور وقار کو بڑھانے کی اپیل کرتا ہے۔ عہدیداروں نے کہا کہ ایم سی ڈی نے دہلی کے شہریوں کی سہولت کے لیے یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

      ایم سی ڈی نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایم سی ڈی کے زونل دفاتر میں ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ ’’ہر گھر ترنگا‘‘ مہم اور یوم آزادی کی تقریبات کے بعد شہری اپنے علاقے کے سینی ٹیشن انسپکٹر کی مدد سے قومی پرچم کو فلیگ کوڈ آف انڈیا 2002 کی دفعات کے مطابق ترنگے کو جمع کرنے، ذخیرہ کرنے اور ٹھکانے لگانے کے لیے زونل آفس میں جمع کرا سکتے ہیں۔

      ایک سرکاری بیان کے مطابق شہری ایم سی ڈی کی ویب سائٹ پر جا کر علاقے کے متعلقہ سینیٹری انسپکٹر، اسسٹنٹ سینیٹری انسپکٹرز کے ساتھ ساتھ 'صفائی فوجیوں' سے ان کے فون نمبروں پر براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      آج ختم ہونے والی ’ہر گھر ترنگا‘ مہم کے تحت شہریوں نے قومی پرچم خرید لیا ہے یا انہیں تقسیم کیا گیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: