ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

عشرت جہاں انکاونٹر کیس: پولیس افسران کی بحالی پر حکومت گجرات سے سپریم کورٹ نے کیا جواب طلب

سپریم کورٹ نےدو پولیس افسروں این کے امین اور ترون باروٹ کو جو عشرت جہاں انکاونٹر کیس میں ملزم ہیں، پھر سے ملازمت پر مامور کرنے کے خلاف عرضی پر آج گجرات حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 21, 2017 03:21 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
عشرت جہاں انکاونٹر کیس: پولیس افسران کی بحالی پر حکومت گجرات سے سپریم کورٹ نے کیا جواب طلب
سپریم کورٹ نےدو پولیس افسروں این کے امین اور ترون باروٹ کو جو عشرت جہاں انکاونٹر کیس میں ملزم ہیں، پھر سے ملازمت پر مامور کرنے کے خلاف عرضی پر آج گجرات حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نےدو پولیس افسروں این کے امین اور ترون باروٹ کو جو عشرت جہاں انکاونٹر کیس میں ملزم ہیں، پھر سے ملازمت پر مامور کرنے کے خلاف عرضی پر آج گجرات حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ داخل کردہ عرضی پر چیف جسٹس جگدیش سنگھ كھیهر کی صدارت والی سپریم کورٹ کی بنچ نے گجرات حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔

عرضی میں سابق آئی پی ایس افسر راہل شرما نے الزام لگایا ہے کہ دو پولیس افسروں این کے امین اور ترون باروت کو بالترتیب گجرات کے تاپی ضلع میں پولیس سپرنٹنڈنٹ اور ریلوے میں پولیس سپرنٹنڈنٹ کے طور پر بحال کیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے الزام لگایا ہے کہ امین کو سہراب الدین شیخ اور عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹر کیس اور باروت کوصادق زمان اور عشرت جہاں کیس میں مقدمہ کا سامنا ہے۔ سہراب الدین انکاونٹرمعاملے میں امین کو بری کر دیا گیا ہے۔ دونوں پولیس افسروں کو پولیس فورس کے ساتھ معاہدے کی بنیاد پر دوبارہ کام پر لگا یا گیا ہے۔

First published: Jul 21, 2017 03:21 PM IST