உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ڈاکٹر ذاکر نائک کے بہانے اب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو بھی گھیرنے کی تیاری

    ڈاکٹر ذاکر نائیک: فائل فوٹو

    ڈاکٹر ذاکر نائیک: فائل فوٹو

    نئی دہلی : معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بہانے اب ہندوستان کے مشہور تعلیمی ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو بھی گھیرنے کی تیاری کی جارہی ہے اور بی جے پی اس کو لے کر یونیورسٹی پر حملہ آور ہورہی ہے۔

    • IBN7
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بہانے اب ہندوستان کے مشہور تعلیمی ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو بھی گھیرنے کی تیاری کی جارہی ہے اور اے ایم یو کے اقلیتی کردار کی مخالفت کرنے والی بی جے پی یونیورسٹی پر حملہ آور ہوگئی ہے۔
      خیال رہے کہ یونیورسٹی کورٹ میں ڈاکٹر ذاکر نائک جون 2013 سے 11 جون 2016 تک رکن تھے ۔تاہم انہوں نے اس دوران یونیورسٹی کی کسی بھی میٹنگ میں شرکت نہیں کی ۔ کونسل میں 15 افراد پر مشتمل ہوتی ہے ، جو یونیورسٹی سے وابستہ اہم فیصلے کرتی ہے۔
      ڈاکٹر نائک کے اے ایم یو کورٹ کا رکن رہنے کو لے کر بی جے پی اب یونیورسٹی پر ہی نشانہ سادھنے لگی ہے۔ علی گڑھ سے بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ ستیش گوتم کا کہنا ہےکہ وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔ گوتم نے موجود ہ وائس چانسلر پر بھی کئی سنگین الزامات عائد کئے ۔ گوتم نے کہا کہ اے ایم یو کے بچوں کی تعلیم کے لئے کے لئے مرکز سے پیسہ آتا ہے، مگر جب سے یہ وائس چانسلر آئے ہیں اے ایم یو میں گول مال ہورہا ہے۔
      دریں اثنا یونیورسٹی انتظامیہ نے سبھی الزامات کو یکسر مسترد کردیا ہے ۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ تین سال پہلے ڈاکٹر نائک کے نام کی تجویز کسی رکن نے پیش کی تھی اور زیادہ تر افراد نے اس کی حمایت کی تھی، جس کے بعد وہ اس کونسل کے ممبر بنائے گئے۔ اگرچہ تین سال کے دوران نہ تو وہ کبھی یونیورسٹی پہنچے، نہ ہی انہوں نے کسی میٹنگ میں شرکت کی ۔
      قابل ذکر ہے کہ اے ایم یو کی اس کونسل میں دلیپ کمار، فاروق شیخ اور بہار کے سابق وزیر اعلی جگناتھ مشرا جیسے لوگ رہ چکے ہیں۔
      First published: