ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

فوجی طاقت کے بغیر قیام امن ممکن نہیں، دنیا کو کٹر پسند اسلام سے چیلنج کا سامنا: نیتن یاہو

نئی دہلی۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے فوجی طاقت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ طاقت کے بغیر امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 17, 2018 10:30 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
فوجی طاقت کے بغیر قیام امن ممکن نہیں، دنیا کو کٹر پسند اسلام سے چیلنج کا سامنا: نیتن یاہو
وزارت خارجہ اور آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کی طرف سے مشترکہ طور پر منعقدہ رائے سینا ڈائیلاگ کے افتتاحی لیکچر میں مسٹر نیتن یاہو نے کہا، ’’آج کی تاریخ میں غالب ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ اس دنیا میں کمزور کا بچا رہ پانا بہت مشکل ہے۔ تصویر، یو این آئی۔

نئی دہلی۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے فوجی طاقت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے  کہا کہ طاقت کے بغیر امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ وزارت خارجہ اور آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کی طرف سے مشترکہ طور پر منعقدہ رائے سینا ڈائیلاگ کے افتتاحی لیکچر میں مسٹر نیتن یاہو نے کہا، ’’آج کی تاریخ میں غالب ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ اس دنیا میں کمزور کا بچا رہ پانا بہت مشکل ہے۔ آپ ہمیشہ طاقتور سے ہاتھ ملانا پسند کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ اگر آپ دنیا میں امن چاہتے ہیں، تو آپ کو طاقتور ہونا پڑے گا‘‘۔


انہوں نے کہا’’ہمارا طاقتور ہونا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ زندہ رہنے کے لئے کم از کم طاقت ضروری ہے‘‘۔ انہوں نے ثقافتی، سائنسی اور تعلیمی طاقت کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا لیكن اس پر فوجی طاقت کو بہتر بتایا۔ انہوں نے کہا، ’’سافٹ پاور اچھی بات ہے اور ہارڈ پاور اور بھی بہتر چیز ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ویسے آج کے وقت میں کسی بھی ملک کے لئے فوجی طاقت، اقتصادی طاقت، تکنیکی طاقت اور ثقافتی طاقت چارد ں کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ناظرین گیلری میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر خارجہ سشما سوراج، خارجہ وزیر مملکت جنرل وی کے سنگھ اور ایم جے اکبر اور افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی بھی موجود تھے۔


وزیر اعظم مسٹر مودی کی قیادت میں مہارت کی تعریف کرتے ہوئے مسٹر نیتن یاہو نے کہا کہ انہیں یہ جان کر حیرانی ہوئی ہے کہ مسٹر مودی نے گزشتہ تین برسوں میں ہندوستان میں تجارت کو بہت آسان کر دیا اور ہندوستان نے بین الاقوامی درجہ بندی میں 42 پائیدان کی چھلانگ لگائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو اقتصادی طاقت بننا ہے تو آپ کو ٹیکس پالیسی کو آسان بنانا ہوگا اور لال فیتہ شاهي پر روک لگانی ہوگی۔ ہندوستان اور اسرائیل دونوں ممالک کا بنیادی مقصد اسی لال فیتاشاهي کو کم سے کم کرنا ہے، تاکہ کاروبار کرنا اور آسان ہو۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کو کٹر پسند اسلام سے چیلنج کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی گزشتہ 3000 سال میں اسرائیل آنے والے پہلے ہندوستانی لیڈر ہیں، دعا ہے کہ ہندوستان اور اسرائیل کی دوستی کو کسی کی نظر نہ لگے۔


First published: Jan 17, 2018 10:30 AM IST