உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    با صلاحیت اور تعلیم یافتہ خواتین بدلیں گی ہمارا سماجی نظام 

    موجودہ منظرنامے سے مایوس ہونے کی نہیں بلکہ اسے بدلنے کے لیے جدوجہد کرنے کہ ضرورت ہے۔  ہمارے ملک و معاشرےمیں تعلیمی ، سماجی اقتصادی اور دیگر میدانوں میں انقلاب آئے گا اور یہ کارنامہ خواتین انجام دیں گی۔

    موجودہ منظرنامے سے مایوس ہونے کی نہیں بلکہ اسے بدلنے کے لیے جدوجہد کرنے کہ ضرورت ہے۔ ہمارے ملک و معاشرےمیں تعلیمی ، سماجی اقتصادی اور دیگر میدانوں میں انقلاب آئے گا اور یہ کارنامہ خواتین انجام دیں گی۔

    موجودہ منظرنامے سے مایوس ہونے کی نہیں بلکہ اسے بدلنے کے لیے جدوجہد کرنے کہ ضرورت ہے۔ ہمارے ملک و معاشرےمیں تعلیمی ، سماجی اقتصادی اور دیگر میدانوں میں انقلاب آئے گا اور یہ کارنامہ خواتین انجام دیں گی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Uttar Pradesh | Lucknow
    • Share this:
    کسی بھی ملک اور معاشرے کی ترقی اور استحکام کے لئے خواتین کی ترقی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ اگر خواتین کو ان کے حقوق فراہم کردئے جائیں تو نہ صرف آئین و دستور کی قدریں مستحکم ہوں گی بلکہ ہمارے ملک و معاشرے کی ترقی کے ساتھ ساتھ مساوات پر مبنی ایک خوبصورت نظام بھی قائم ہو سکے گا، ہر چند کہ خواتین اپنے حقوق ، ترقی اور تحفظ کے لئے بیدار ہورہی ہیں لیکن ابھی ایک لمبا سفر طے کرنا باقی ہے جس کے لئے مسلسل جد وجہد اور بے تکان کوششوں کی ضرورت ہے ،ان خیالات کا اظہار“ پروموشن آف ویمن انٹر پری نیور شپ “کے عنوان سے منعقدہ ایک خصوصی مذاکرے اور سمینار میں کیا گیا مساوات برائے خواتین کی مناسبت سے انٹیگرل یونیورسٹی میں منعقدہ پروگرام میں ڈاکٹر رولی بدھ وار نے خاص طور پر خطاب کیا ، یونیورسٹی کے بایو انجینئرنگ کے شعبے، کی سربراہ ڈاکٹر ( انجینئر ) الوینا فاروقی کے ساتھ ساتھ بایو سائنس اور آئی آئی اے ایس ٹی کے ذمہ داران نے بھی اس پروگرام کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا اس موقع پر پروگرام کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر الوینا فاروقی نے کہا کہ اس پروگرام کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے ۔

    اس کا بنیادی مقصد معاش کے وسائل کی فراہمی سے خواتین کو بااختیار بنانا، ان کی ہمت اور عزم کی ستائش کرنا اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے ۔الوینا فاروقی یہ بھی اظہار کرتی ہیں کہ ہم تعلیمی اور سماجی سطح پر ایسے اقدامات کررہے ہیں جن کے ذریعے آنے والی نسلوں کو ان دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے جس سے ہم نبرد آزما ہیں ۔۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں خواتین کی فلاح و بہبود اور غریبی کے خاتمے کے لئے حکومتِ ہند کی جانب سے بھی کئی اہم ہروگرام اور اسکیمیں چلائی جارہی ہیں۔ جن کا مقصد شہروں میں رہنے والی خواتین کے ساتھ ساتھ ہر دیہی غریب گھرانے سے ایک عورت کو اپنی مدد آپ گروپ کے نیٹ ورک کے تحت لانا اور غریبی سے باہر آنے کے لئے ان کی مالی شمولیت کو اور روزی روٹی کی مستقل حمایت کو یقینی بنانا ہے۔

    پورے ہندوستان میں اب تک 8 کروڑ سے زیادہ خواتین کو اپنی مدد آپ گروپوں کے تحت لایا گیا ہے۔جو حکومت کا ایک قابل ستائش عمل ہے۔ مقررین نے یہ بھی کہا کہ مردوں کی اجارہ داری والے اس معاشرے کو خواتین کی بہتری کے لئے تبدیل کرنے کے لیے خواتین کو خود کفیل بناکر انہیں احساسِ کمتری سے باہر نکالنے کی ضرورت ہے۔ ان میں خود اعتمادی پیدا کرکے مردوں اور عورتوں کے مابین موجود عدم مساوات کو دور کرنے کی ضرورت ہے، اس بات کو بار بار دہرایا گیا کہ آدھی زمین آدھا آسمان کے حساب سے عورتوں کو بھی وہی حقوق دینے چاہئیں جو ہمارے ملک و معاشرے میں مردوں کو حاصل ہیں۔

    Pakistan:تاریخ کا بھیانک سیلاب نے پاکستان کو کیا تباہ، 30 لاکھ بچوں پر منڈرایا یہ بڑا خطرہ

    دہلی میں MBBS فائنل کی طالبہ نے کی خودکشی، ہاسٹل میں اس حالت میں ملی لاش

    ملک کے دستور میں بھی خواتین کے مساوی حقوق اور انہیں بااختیار بنانے پر خاص توجہ دی گئی ہے لہٰذا ہم اپنے دستور پر عمل کرکے ہی خواتین کو ان کے جائز حقوق اور مقام دے سکیں گے اور وہ زندگی کے ہر میدان میں مردوں کے شانہ بہ شانہ قدم بہ قدم چل کر ملک کو آگے لے جائیں گی۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے طلبا اساتذہ اور سبھی شرکاء نے یہ عہد بھی کیا کہ خواتین کی فلاح و بہبود ، ان کی ہمہ جہت ترقی اور حقوق کی بازیابی کے لئے سنجیدہ اور نتیجہ خیز کوششیں کی جائیں گی۔

    کچھ برا ہونے کے ڈر سے آرہا پسینہ، کہیں Anxiety Attack تو نہیں؟ جانئے اہم معلومات

    ڈاکٹر الوینا مسلسل جد و جہد میں یقین رکھتی ہیں ان کا ماننا ہے کہ سہی سمت میں مسلسل اوع سنجیدہ کوششیں ضرور ثمر باور ہوتی ہیں اور ہمیں یقین ہےکہ ہمیں اپنے مقاصد میں ضرور کامیابی ملے گی وہ دن دور نہیں جب ہمارے معاشرے میں ہر عورت ، سبھی خواتین عزت وقار کی زندگی بسر کریں گی ۔اور ہمارا ملک اس حوالے سے بھی ایک مثالی ملک تصور کیا جائے گا ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: