உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Covid-19 Updates:کوروناوائرس کی صورتحال،اس سال کےاختتام تک ہوگی بہتر،ایمس کےڈائریکٹرکابیان

    علامتی تصویر

    آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (All India Institute of Medical Sciences) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا (Dr Randeep Guleria) نے ایک خصوصی انٹرویو میں سی این این نیوز 18 کو بتایا کہ’’یہ وائرس کے ساتھ ابھی شطرنج کا کھیل ہے۔ ہمارے پاس ایک چال ہے اور وائرس بھی ایک اور اقدام چلاتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ سال کے آخر تک کون جیت جاتا ہے‘‘۔

    • Share this:
      آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (All India Institute of Medical Sciences) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا (Dr Randeep Guleria) نے ایک خصوصی انٹرویو میں سی این این نیوز 18 کو بتایا کہ ’’ ملک میں 2021 کے آخر تک کووڈ۔ 19 کی وبا سے پیدا ہونے والی صورتحال بہتر ہوسکتی ہے اور اگلے سال کے وسط تک دنیا ایک آرام دہ زون کی حیثیت اختیار کر سکتی ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس راستے میں دو سوار ہیں۔ نمبر ایک ویکسین کی دستیابی اور نمبر دو کووڈ۔19 کا سبب بننے والے سارس کو۔ 2 وائرس کی مختلف حالتوں کے بارے میں ہماری سمجھ۔‘‘۔

      ’’مجھے لگتا ہے کہ ہم ایک مستحکم صورتحال کی طرف آئیں گے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں اس طرح سے حاضر ہوں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ اس وبائی بیماری کا خاتمہ ہو جائے گا - اس سال کے آخر تک مجھے امید ہے کہ حالات بدل جائیں گے‘‘۔انہوں نے ویکسی نیشن مہم کی اہمیت پر زور دیا اور اس کی مختلف حالتوں اور ان پر لگاتار تحقیق کی ضرورت کے بارے میں لمبی حد تک بات کی۔ گلیریا نے کہا کہ کورونا کی تغیر پذیر صورت حال یہ فیصلہ کریں گی کہ مستقبل میں وبائی بیماری کے ساتھ کیا سلوک کیا جاسکتاہے اور ہم ان مختلف حالتوں سے کیسے نمٹنے کے قابل بن سکتے ہیں‘‘۔


      آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (All India Institute of Medical Sciences) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا (Dr Randeep Guleria) نے ایک خصوصی انٹرویو میں سی این این نیوز 18 کو بتایا کہ’’یہ وائرس کے ساتھ ابھی شطرنج کا کھیل ہے۔ ہمارے پاس ایک چال ہے اور وائرس بھی ایک اور اقدام چلاتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ سال کے آخر تک کون جیت جاتا ہے‘‘۔
      گلیریا نے کہا کہ کووڈ۔19 میں ملک بھر میں خطرناک حد تک اضافے کی ایک اہم وجہ اس وائرس کی نئی قسم ہے جس نے لوگوں میں پائے جانے والے سرس کوو 2 (Sars-Cov-2 ) میں وائرس کو زیادہ متعدی بنا دیا ہے۔

      ’’جب واقعی جنوری اور فروری میں معاملات سامنے آئے اور ویکسین رول آؤٹ بھی شروع ہوا تو بہت سارے لوگوں نے یہ محسوس کرنا شروع کیا کہ وبائی مرض ختم ہوچکا ہے اور آپ کو واقعتا کووڈ کے مناسب رویے کی ضرورت نہیں تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ وائرس اس دوران مزید تیار ہورہا تھا۔ یہ بدل رہا تھا اور زیادہ سے زیادہ متعدی ہوتا جارہا تھا‘‘۔گلیریا نے مزید کہا کہ’’ہم نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔ اس نشاندہی کرتے ہوئے کہ 1989-90 کے انفلوئنزا وبائی مرض کے دوران بالکل یہی ہوا‘‘۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: