உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اڑی دہشت گردانہ حملہ : جیش محمد کے تھے چاروں دہشت گرد ، پاکستانی اسلحہ برآمد

    جموں و کشمیر کے اڑي میں آرمی کیمپ پر دہشت گردانہ حملے کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے ۔

    جموں و کشمیر کے اڑي میں آرمی کیمپ پر دہشت گردانہ حملے کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے ۔

    جموں و کشمیر کے اڑي میں آرمی کیمپ پر دہشت گردانہ حملے کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی :ہندوستانی فوج نے نہایت سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے براہ راست فوجی سطح پر اڑی حملے کا معاملہ پاکستان کے سامنے اٹھایا کیونکہ اس میں پاکستان کو مرکز بناکر سرگرم جیش محمد کے ملوث ہونے کے پختہ ثبوت ملے ہیں۔ ڈائرکٹر جنرل (ملٹری آپریشنز) لفنٹنٹ جنرل رنبیر سنگھ نے یہاں وزارت دفاع کے وار روم میں ایک غیر معمولی میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ انہوں نے یہ معاملہ پاکستان کے سامنے اٹھایا ہے کیونکہ مقتول دہشت گردوں کے پاس سے برآمد کچھ ہتھیاروں پر پاکستان کے نشانات ہیں۔
      ڈائرکٹر جنرل نے کہا کہ ہندوستانی فوج دہشت گردوں کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنانے کے لئے پوری طرح تیار ہے اور اس سلسلے میں ضروری کارروائی کی جارہی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل سنگھ نے کہا کہ چونکہ ان دہشت گردوں کے پاس کچھ ایسی اشیاء تھیں جن پر پاکستانی نشانات تھے اس لئے میں نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے اس سلسلے میں بات کی ہے اور انہیں اپنی شدید تشویش سے آگاہ کیا ہے۔ ڈی جی ایم او نے خبردار کیا کہ اس کا منھ توڑ جواب دیا جائے گا اور کہا کہ سیکورٹی ایجنسیاں ضروری کارروائی کے لئے تیاری کررہی ہیں۔
      جنرل سنگھ نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہندوستانی فوج کسی بھی ناپاک ارادے کو ناکام بنانے کے لئے پوری طرح تیار ہے اوردشمن کے کسی بھی شرانگیز منصوبے کا منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اڑی حملے کے بارے میں جس میں سترہ فوجی شہید ہوئے تفصیلات بتاتے ہوئے لفٹننٹ جنرل نے کہا کہ ہلاک ہونے والے سارے غیر ملکی دہشت گردوں کے پاس ایسی کچھ چیزیں تھیں جن پر پاکستان کے نشانات تھے۔
      ابتدائی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقتول جنگجوؤں کا تعلق جیش محمد سے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے قبضے سے چار اے کے 47 رائفلیں، چار انڈر بیرل گرینیڈ لانچر اور دیگر دھماکہ خیز اشیاء برآمد ہوئیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فوجی جوانوں کی زیادہ تر ہلاکتیں فوجی کیمپ میں خیموں وغیرہ میں آگ لگنے سے ہوئیں۔
      لفٹننٹ جنرل نے بتایا کہ فوجی دستوں نے علاقے میں تلاشی مہم شروع کی ہے ۔ حالانکہ اس کی تفصیلی معلومات ابھی نہیں ملی ہے۔ جوانوں نے بہت ہی پیشہ ورانہ ڈھنگ سے یہ مہم سر کی اور غیر معمولی حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ ایجنسیاں بہت باریکی سے سیکورٹی دستوں کے ساتھ کام کررہی ہیں اور سبھی ضروری قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر دفاع منوہر پاریکر اور فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ حالات کا جائزہ لینے کے لئے موقع پر پہنچ گئے ہیں۔
      First published: