உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ ملک کے موجودہ حالات کو سدھارنے کےلئے آگے آئیں: امیر جماعت اسلامی

    مولانا جلال الدین عمری عیدالاضحیٰ کا خطبہ دیتے ہوئے۔

    مولانا جلال الدین عمری عیدالاضحیٰ کا خطبہ دیتے ہوئے۔

    امیر جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ موجودہ حالات مسلمانوں کے لئے اچھے نہیں ہیں، اس لئے اپنی زندگی کو اللہ کے احکام کے تابع بنائیں۔

    • Share this:
      مولانا سید جلال الدین عمری نے جماعت اسلامی ہند کے کیمپس میں واقع مسجد اشاعتِ اسلام میں آج خطبہ عیدالاضحیٰ کے دوران کہا کہ ملک کے حالات دوماہ قبل عید الفطرکے موقع پرجیسے تھے، تقریباً ویسے ہی اب بھی ہیں، بلکہ مزید خراب ہوئے ہیں۔ لاقانونیت عام ہے، جن کے ہاتھ میں طاقت ہے وہ خود کو قانون سے بالاترسمجھتے ہیں۔ ہجومی تشدّد کے واقعات مسلسل پیش آرہے ہیں۔

      انہوں نے کہا کہ منظّم گروہ نکلتے ہیں اورراستے میں جو بھی ملتا ہے اسے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ خواتین کی عزّت و آبرو اپنے گھر اور خاندان میں بھی محفوظ نہیں ہے۔ ان پر زیادتیاں کرنے والے عموماً گھر کے افراد ہی ہوتے ہیں۔زنا بالجبر کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ خواتین پوری دنیا میں اور خاص طور پر ہندوستان میں محفوظ نہیں ہیں۔

      ہمارے مسائل انتہائی سنگین

      مولانا جلال الدین عمری نے  کہا کہ آزادی رائے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں کیا ہم مہر بہ لب ہیں؟ کیا خاموشی سے آنکھیں بند کئے رہیں؟ جو ہورہا ہے ہونے دیں؟ بلا شبہ ہمارے مسائل ہیں اور سنگین مسائل ہیں، لیکن ہمیں ان کے حل کی کوشش ہونی چاہئے۔ کیونکہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان حالات سے خود کو لاتعلّق نہ رکھیں۔ ملک سے ہماری خیرخواہی کا تقاضا ہے کہ اصلاحِ احوال کی جدّوجہد کریں۔

      انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول جب مبعوث کئے گئے تھے، تو عرب کے حالات اس سے بھی بدتر تھے۔ آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ کا حق کا اعلان کریں، لوگوں کو سیدھی راہ کی طرف رہ نمائی کریں اورانہیں اللہ کی طرف بلائیں۔

       پوری زندگی اللہ کے احکام کے تابع کریں

      امیر جماعت اسلامی  نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہمارے کرنے کے دو کام ہیں: ایک یہ کہ ہم اپنی پوری زندگی کو اللہ کے احکام کے تابع کردیں۔ چلتے پھرتے ، لیٹتے بیٹھتے، ہر لمحے اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی گزاریں۔ہماری نماز، ہماری عبادت، ہمارا جینا، ہمارا مرنا، سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہو۔ جب انسان اپنی پوری زندگی اللہ کے حوالے کردیتا ہے تو اسے خدا پرستی کی معراج حاصل ہوتی ہے۔

      دوسروں کو اللہ کی طرف دعوت دیں

      دوسرا کام یہ ہے کہ ہم دوسروں کو اللہ کی طرف دعوت دیں۔ مولاناعمری  نے یہ بھی کہا کہ آپ بھکاری بن کرنہ رہیں، دنیا کے پیچھے چلنے والے نہ بنیں، بلکہ اس کے رہبر بنیں۔ اس طرح آپ کے مسائل بھی حل ہوں گے اورآپ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے والے بھی ہوں گے۔
      امیرجماعت نے نماز سے قبل بھی عید الاضحی کے کچھ مسائل بیان کیے۔

      قربانی ہر صاحب نصاف پر واجب

      مولانا جلال الدین عمری نے مزید کہا کہ اس دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل قربانی ہے۔ یہ ہر صاحبِ نصاب پرواجب ہے۔ یہ اللہ کے پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، جس پر پوری دنیا کے مسلمان عمل کرتے ہیں۔ انھوں نے کیرلا کے سیلاب زدگان کے لیے اپیل کی کہ ان کا زیادہ سے زیادہ مالی تعاون کیا جائے۔ کیرلامیں ایسی تباہی 100 سال میں پہلی بارآئی ہے۔ ملک میں کہیں بھی قدرتی آفت آئی ہے، تو کیرلا کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کرمدد کی ہے۔ ضرورت ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ان کا بھی تعاون کیا جائے۔
      First published: