ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جماعت اسلامی کی کورونا ہیلپ لائن سے سامنے آیا دہلی اور اترپردیش کی میڈیکل سہولیات کا سچ ، جان کر چونک جائیں گے

اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا اور جماعت اسلامی ہند نے مریضوں کی فوری طور پر وسائل سے جوڑنے کے لئے ملکی سطح پر رضاکاروں کی ایک وسیع ٹیم تشکیل دی ہے۔

  • Share this:
جماعت اسلامی کی کورونا ہیلپ لائن سے سامنے آیا دہلی اور اترپردیش کی میڈیکل سہولیات کا سچ ، جان کر چونک جائیں گے
جماعت اسلامی کی کورونا ہیلپ لائن سے سامنے آیا دہلی اور اترپردیش کی میڈیکل سہولیات کا سچ ، جان کر چونک جائیں گے

نئی دہلی : ملکک بھر میں کورونا کے مریض آکسیجن، اسپتال بیڈس اور دیگر طبی سہولیات کی تلاش میں پریشان ہیں۔ ان حالات میں اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) اور جماعت اسلامی ہند نے مریضوں کی فوری طور پر وسائل سے جوڑنے کے لئے ملکی سطح پر رضاکاروں کی ایک وسیع  ٹیم تشکیل دی ہے۔  'کووڈ ریلیف ٹاسک فورس' کے نام سے تمام ریاستوں میں 1000 سے زیادہ والنٹیرز متحرک ہو چکے ہیں جو چوبیس گھنٹے اس چیز کو یقینی بنانے میں سرگرداں ہیں کہ کورونا مریضوں کو آکسیجن ، اسپتال بیڈس، پلازما، دوائیں اور دیگر طبی سہولتیں وقت پر دستیاب ہوجائیں ۔ اس کام کے آغاز کے پہلے ہفتہ ہی میں والنٹیرز کی ٹیم نے6000 سے زائد کووڈ مریضوں کی درخواستوں کو وصول کیا اور تقریباً 3000 مریضوں کو وسائل فراہم کنندگان کے بارے میں تصدیق شدہ معلومات فراہم کی ہیں۔


مریض اپنی ضروریات 24×7 ہیلپ لائن نمبروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے طلب کرتے ہیں، جبکہ والنٹیرز ملک بھر میں وسائل کی نشاندہی کرلیتے ہیں اور ساتھ ہی طبّی سہولیات کی فراہمی کے متعلق دستیاب معلومات کی تصدیق کرتے ہوئے مریضوں کو فوراً متعلقہ وسائل فراہم کرنے والوں سے جوڑ دیتے ہیں ۔ ان تمام کاموں کو منظم انداز میں کرنے کے لئے اوکھلا نئی دہلی میں واقع مرکز جماعت اسلامی کے دفتر پر ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔


ایس آئی او کے قومی صدر محمد سلمان احمد نے کہا " فی الوقت ملک کو آکسیجن اور اسپتال بیڈس کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ مریضوں کی جان بچانے کیلئے ان کے افراد خاندان طبی ضروریات و وساںٔل کے لیے دوڑ لگارہے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر مدد کرنے والوں کی ایک طویل فہرست تو موجود ہے ، مگر اُنھیں چھانٹ کر مصدقہ معلومات حاصل کرنا مریضوں کے اہل خانہ کیلئے ایک بڑا درد سر بن جاتا ہے ۔ ان ہنگامی حالات میں ٹاسک فورس کا مقصد مریضوں کے قیمتی و نازک وقت کو ضائع ہونے سے بچانا اور اُن کی اذیت کو کم کرنا ہے۔"


ایس آئی او اور جماعت اسلامی ہند نے 25 اپریل کو مکمل 24 گھنٹے جاری رہنے والے دو ہیلپ لائن نمبروں اور دہلی میں مقیم 30 والنٹیرز کے ساتھ یہ مشق شروع کی۔ کچھ ہی دن میں ملک میں پھیلے تمام مریضوں کی مدد کے لئے ریاستی اور ضلعی سطح پر بھی والنٹیئرز کی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ مغربی بنگال، تلنگانہ، مدھیہ پردیش اور گجرات میں اضافی ہیلپ لائنیں وسیع پیمانے پر راحتی اقدامات کے لیے بنائی گئی ہیں ۔ پلازما عطیہ دہندگان کے اندراج کی ایک مہم بھی چلائی گئی اور کچھ مریضوں کو ان عطیہ دہندگان سے جوڑا بھی گیا۔

سلمان احمد نے کہا کہ ہم نے یہ اقدامات اللہ تعالٰی کو خوش کرنے کے لیے اٹھائے ہیں۔ "ایس آئی او ہمیشہ بلا لحاظ مذہب و ملت کے انسانوں کی ضرورت کو پورا کرنے اور امداد کے لیے سب سے آگے رہی ہے۔ بحیثیت مسلمان انسانیت کا نفع ہی ہماری اولین ذمہ داری ہے۔"

مرکزی ہیلپ لائنوں پر ٹاسک فورس کو موصول ہونے والی 40 فیصد سے زیادہ درخواستیں آکسیجن کے لئے ہیں ، جبکہ 30 فیصد کے قریب اسپتال کے بیڈوں کے لئے ہیں۔ 20 فیصد سے زیادہ فون کرنے والے پلازما کے عطیات مانگتے ہیں جبکہ باقی درخواستیں ریمڈیسیویر اور توسیلیزوماب جیسی دوائیوں سے متعلق ہیں۔ تقریبا 40 فیصد فون کرنے والے دہلی سے تعلق رکھتے تھے ، اس کے بعد بالترتیب اتر پردیش اور تلنگانہ سے 20 فیصد اور 14 فیصد درخواستیں رہیں ۔

یہ واضح ہے کہ ہمیں اکثر درخواستیں دہلی اور اُتر پردیش سے موصول ہو رہی ہیں کیونکہ ان ہی صوبوں میں طبی سہولیات کا سب سے زیادہ فقدان ہے۔ ہماری ان تھک کوششوں کے باوجود ہمیں ان صوبوں میں وسائل فراہم کرنے کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اُمید ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں اس ضمن میں خصوصی توجہ دیں گی اور لوگوں کو راحت فراہم کرنے کی کوشش کریں گی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 03, 2021 10:29 PM IST