உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کورونا کا قہر : 10 ہزار لوگوں کو معاشی مشکلات سے باہر نکالے گی جماعت اسلامی ہند

    کورونا کا قہر : 10 ہزار لوگوں کو معاشی مشکلات سے باہر نکالے گی جماعت اسلامی ہند

    کورونا کے قدرتی آفت کے دور میں معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے اور اپنے کاروبار تجارت سے ہاتھ دھو چکے لوگوں کو جماعت اسلامی ہند مدد دے گی ۔ جماعت اسلامی ہند کی ذیلی تنظیم وزن 2026 کے ذریعہ سے امدادی کاموں کو انجام دیا جائے گا ۔ اس پروجیکٹ کا افتتاح کردیا گیا ہے ۔

    • Share this:
    نئی دہلی : کورونا کے قدرتی آفت کے دور میں معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے اور اپنے کاروبار تجارت سے ہاتھ دھو چکے لوگوں کو جماعت اسلامی ہند مدد دے گی ۔ جماعت اسلامی ہند کی ذیلی تنظیم وزن 2026 کے ذریعہ سے امدادی کاموں کو انجام دیا جائے گا ۔ اس پروجیکٹ کا افتتاح کردیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق کورونا کے سبب پیدا معاشی دشواریوں سے معاشرے کو باہر نکالنے کے لیے وژن 2026 کی معاون این جی او سہولت مائیکرو فائنانس نے ملکی سطح  پرلوگوں کو اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑا ہونے میں سہارا دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ملکی سطح پر لانچ کیے گئے اس پروجیکٹ سے ان لوگوں کی مدد کی جائے گی ، جو لاک ڈاون کے سبب اپنے کاروبار کھو چکے ہیں ۔ پہلے ایک برس میں 10 ہزار لوگوں کو مصیبت سے نکالنے کا ہدف طے کیا گیا ہے ۔ اس پروجیکٹ کا نام  'کوڈ-19 ہینڈ ہولڈنگ' دیا گیا ہے ، جس کا مقصد کورونا کی مشکلات سے لوگوں کونکالنا ہے ۔

    جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے جماعت کے مرکز میں اس پروجیکٹ کا افتتاح کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت مشکل گھڑی ہے ، کروڑوں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں اور لاکھوں خاندان فاقہ کشی کا شکارہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے اٹھیں ، مجھے خوشی ہے کہ یہ پروجیکٹ اپنے متعینہ مدت میں تیار ہوا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کورونا کے دوران لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے ہمارے ڈاکٹروں ، سماجی کارکنوں نے میڈیکل ریلیف پہنچا کر بڑی اہم ذمہ داری ادا کی اور اب ایک بار پھر ضرورت آن پڑی ہے کہ پریشان حال لوگوں کے چہروں پر دوبارہ خوشیاں لانے کا کام کریں اور ان کی معاشی دشواریوں کو دور کرنے کا کام کریں ۔ ہمیں پریشان حال لوگوں کے لیے رحمت بن کر ابھرنا ہے ۔

    ان سے قبل نائب امیر جماعت سید محمد جعفر نے جماعت کی خدمت خلق کے کاموں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل میں کوآپریٹیو طریقہ کار کافی کار آمد رہا ہے اور اس وقت پورے ملک پر غربت اور افلاس کے بادل چھائے ہوئے ہیں ۔ ہم اسے دور کرنے کے لیے مل کر کوشش کریں ۔ پروجیکٹ کے سربراہ ہیومن ویلفیر فاونڈیشن کے جنرل سیکریٹری معظم نائک نے اپنی گفتگومیں پروجیکٹ کا تفصیلی تعارف کرایا ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی پہلی لہرکے دوران لاک ڈاون میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو فوری ضرورت کے تحت کھانے پینے کی اشیا  پہنچائی گئیں ۔ دوسری لہر کے دوران بڑے پیمانے پر میڈیکل ریلیف کاکام ہوا اور اب تیسرا مرحلہ معاشی بدحالی کو دور کرنے کا ہے ۔

    اس موقع پر پروجیکٹ کی ویب سائٹ اور ایپ کا بھی افتتاح کیا گیا ۔ سہولت مائیکرو فائنانس کے ذمہ دار محمد اسامہ نے  ایپ کا تعارف کرایا ۔ اس ایپ کے ذریعہ کوئی بھی پروجیکٹ کو اپنا تعاون دے سکتا ہے ۔ ضرورت مندوں کی نشاندہی بھی ایپ کے ذریعہ کی جا سکے گی ۔ تاکہ عملی اقدامات میں تیزی لائی جاسکے ۔  اس پروجیکٹ کا سب سے اہم حصہ عملی اقدامات کا جائزہ لینا ہے ۔ تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ معاشرے پر کیا اثرات پڑے اور کتنی کامیابی ملی ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: