ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

تبدیلی مذہب معاملہ : جماعت اسلامی ہند نے اٹھایا سوال ، مذہب تبدیل کرنے والوں کو کیوں سامنے نہیں لایا جارہا

جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر انجینئر محمد سلیم نے نیوز 18 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جبری مذہب تبدیلی کا معاملہ سیاست سے وابستہ ہے اور اس معاملہ میں حقیقت کم ہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آخر بغیر جانچ پوری ہوئے کیوں مسئلے کو اٹھایا جارہا ہے ، ان لوگوں کو سامنے کیوں نہیں لایا جارہا ہے ، جن کا جبری طور پر مذہب تبدیل کرایا گیا ۔

  • Share this:
تبدیلی مذہب معاملہ : جماعت اسلامی ہند نے اٹھایا سوال ، مذہب تبدیل کرنے والوں کو کیوں سامنے نہیں لایا جارہا
تبدیلی مذہب معاملہ : جماعت اسلامی ہند نے اٹھایا سوال ، مذہب تبدیل کرنے والوں کو کیوں سامنے نہیں لایا جارہا

نئی دہلی : جبری مذہب تبدیلی کو لے کر جہاں اترپردیش اے ٹی ایس اور این آئی اے تک کی جانچ چل رہی ہے اور روززانہ نئے نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں تو وہیں اس معاملہ میں مسلم تنظیمیں کھل کر سوالات اٹھارہی ہیں ۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر انجینئر محمد سلیم نے یوپی حکومت کی طرف سے کی جارہی کارروائی پر سوال اٹھایا ہے ۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر انجینئر محمد سلیم نے نیوز 18 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جبری مذہب تبدیلی کا معاملہ سیاست سے وابستہ ہے اور اس معاملہ میں حقیقت کم ہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آخر بغیر جانچ پوری ہوئے کیوں مسئلے کو اٹھایا جارہا ہے ، ان لوگوں کو سامنے کیوں نہیں لایا جارہا ہے ، جن کا جبری طور پر مذہب تبدیل کرایا گیا ۔


انجینئر محمد سلیم نے کہا کہ ملک میں جمہوریت ہے اور کون کسی کا جبری مذہب تبدیل کراسکتا ہے ،کیونکہ اگر کسی کو لالچ بھی دیا گیا اور فنڈنگ بھی کی گئی تو وہ رقم لینے کے بعد واپسی کرسکتا ہے اور پرانا مذہب اختیار کرسکتا ہے ۔ ہمارے ملک میں ہر کسی کو اپنے پسند کا مذہب اختیار کرنے کی آزادی ہے ۔ انجینئر محمد سلیم نے کہا کہ اس معاملہ کو سیاسی طور پر طول دینے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے اور یہ سب اترپردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی سیاست سے جڑا ہوا ہے ۔ تاکہ ان اہم امور اور موضوعت پر عوامی جوابدہی اور گفتگو پر تبادلہ خیال سے بچا جاسکے ۔اور عوام کو گمراہ کرکے بنیادی سوالات پر پردہ ڈالا جاسکے ۔


انجینئر محمد سلیم نے کہا کہ میڈیا میں تفتیش مکمل کیے بغیر اس معاملہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بتاتا ہے کہ اصلی سچائی کچھ اور ہی ہے ۔ انجینئر محمد سلیم نے کہا کہ کیوں ان لوگوں سے بات نہیں کی گئی ، جنھوں نے اپنا مذہب تبدیل کیا ہے ۔ غورطلب ہے کہ اترپردیش اے ٹی ایس نے مبلغ عمر گوتم اور مولانا جہانگیر قاسمی کو گرفتا رکرکے دعوی کیا ہے کہ جبری تبدیلی مذہب کا بہت بڑا ریکٹ ملک میں چل رہا تھا ، جس کے ذریعہ ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کا مذہب تبدیل کرایا گیا ۔


بتادیں کہ عمر گوتم خود ایک نومسلم ہیں جو اسی کی دہائی میں مسلم بن گئے تھے ۔ وہ سابق وزیر اعظم وی پی سنگھ کے خاندان سے آتے ہیں ۔ ان کے قریبی رشتہ دار ابھی بھی ہند و مذہب پر عمل پیرا ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 27, 2021 11:31 PM IST