உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوجی آپریشن انتہائی المناک: جماعت اسلامی ہند

    نئی دہلی کے ابوالفضل انکلیو، اوکھلا میں واقع جماعت اسلامی ہند کا مرکزی دفتر: فائل فوٹو۔

    نئی دہلی کے ابوالفضل انکلیو، اوکھلا میں واقع جماعت اسلامی ہند کا مرکزی دفتر: فائل فوٹو۔

    جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری محمد احمد نے ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیٹیلائٹ تصاویر سے معلوم ہوا ہے کہ مغربی میانمار میں واقع مسلمانوں کی بستیوں کو حکومت کی ایما پرنذر آتش کیا گیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ جماعت اسلامی ہند نے آج یہاں جاری اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے اور حکومت منصوبہ بند طریقے سے مسلسل مسلمانوں پر زمین تنگ کر رہی ہے جو انتہائی المناک و تشویشناک ہے۔ خبروں کے مطابق حکومت نے اپنے تازہ ترین اقدامات کے تحت مسلمانوں کی سیکڑوں عمارتوں کو نذر آتش کردیا ہے جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری محمد احمد نے ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیٹیلائٹ تصاویر سے معلوم ہوا ہے کہ مغربی میانمار میں واقع مسلمانوں کی بستیوں کو حکومت کی ایما پرنذر آتش کیا گیا ہے۔ ان تصاویر کے مطابق مسلمانوں کی آبادی پر مشتمل تین دیہاتوں میں تقریبا چار سو عمارتیں جل کر راکھ ہوگئی ہیں۔


      انہوں نے کہا کہ ہیومن رائٹس واچ کے ایشیائی شعبے کے ڈائریکٹر براڈ ایڈم نے آتش زدگی کے حجم کو تصور سے کہیں زیادہ قرار دیا ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ سکریٹری موصوف محمد احمد نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں سے کیا جانے والابرتاؤ سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس پر فورا روک لگائی جانی چاہئے۔ مسٹر احمد نے مسلم مملکتوں اور عالمی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ میانمار کی حکومت سے مطالبہ کریں اور ان پر دباؤبنائیں کہ روہنگیا مسلمانوں کو فوری طور پر انصاف دلایا جائے اورانہیں سیکورٹی فراہم کی جائے۔
      واضح رہے کہ بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق میانمار میں فوج کا کہنا ہے کہ اس نے روہنگیا مسلمانوں کے ایک گاؤں میں 25 لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ میانمار کی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ اس کی فوج نے ریاست رخائن میں ان دیہات پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کی جہاں روہنگیا مسلم اقلیت آباد ہیں۔ میانمار کی فوج کا کہنا ہے کہ ہلاک کئے جانے والے افراد خنجروں اور لاٹھیوں سے لیس تھے۔ فوج کے مطابق یہ حملہ مسلح عسکریت پسندوں کے خلاف ’کلیئرنس آپرشن‘ تھا۔سوشل میڈیا پر آنے والی تصویر اور ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مرنے والوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔اس کارروائی کے باعث اتوار کو سینکڑوں لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔


      سکریٹری موصوف نے کہا کہ میانمار میں روہنگیا مسلمان شہریت نہ ملنے، جبری مشقت اور جنسی تشدد جیسے مظالم کا شکار ہیں۔ریاست رخائن میں کسی آزاد میڈیا کو رسائی حاصل نہیں ہے اس سے کسی بھی سرکاری بیان کو کافی تنقیدی نگاہ سے دیکھنا پڑتا ہے اس لیے ماوارئے عدالت قتل، گرفتاریوں اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق خبروں کی آزادانہ تحقیق مشکل ہے۔

      First published: