ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہاتھرس میں دلت لڑکی کی عصمت دری پر جماعت اسلامی ہند نے کیا انصاف کا مطالبہ

پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ”ہم اس معاملے کی جلد تحقیقات اور مقدمے کی سماعت کا مطالبہ کرتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ یوپی سرکار متاثرہ کو فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے گی''۔

  • Share this:
ہاتھرس میں دلت لڑکی کی عصمت دری پر جماعت اسلامی ہند نے کیا انصاف کا مطالبہ
ہاتھرس میں دلت لڑکی کی عصمت دری پر جماعت اسلامی ہند نے انصاف کا مطالبہ کیا

نئی دہلی۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں ریاست اتر پردیش میں ہاتھرس ضلع کے ایک گاؤں بولگڑھ کی 19 سالہ دلت لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری کی سخت لفظوں میں مذمت کی اور کہا کہ اطلاع کے مطابق وہ لڑکی اس وقت علی گڑھ کے ایک اسپتال میں آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ مجرموں نے اس لڑکی کے ساتھ انسانیت سوز زیادتیاں کیں، اس کی زبان کٹ گئی ہے، ریڑھ کی ہڈی شدید زخمی ہے اور اس کی گردن پر متعدد چوٹیں ہیں۔ اس معاملے میں ایس سی/ ایس ٹی (مظالم کی روک تھام) ایکٹ کے تحت اعلیٰ ذات کے چار افراد پر اجتماعی عصمت دری اور قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس نے ان میں سے تین ملزموں کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔


رپورٹ کے مطابق یہاں رہنے والے تقریباً چھ سو خاندانوں میں سے پندرہ خاندانوں کا تعلق دلت طبقے سے ہے۔ ان میں سے گاؤں کے تقریباً چار سو اونچی ذات کے ایسے خاندان ہیں جن کے ہاتھوں دلتوں کو ہمیشہ ہراسانی  اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ”ہم اس معاملے کی جلد تحقیقات اور مقدمے کی سماعت کا مطالبہ کرتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ یوپی سرکار متاثرہ کو فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔ ریاست میں عصمت دری اور جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ مہراج گنج،لکھیم پور کھیری،میرٹھ  اور گریٹر نوئیڈا میں بھی کمسن لڑکیوں کے ساتھ حال ہی میں عصمت دری اور جنسی تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔ مجرموں کو وقت پر سزا نہ ملنے کی وجہ سے ان کے حوصلے بڑھتے ہیں اور اس طرح کے گھنونے جرائم بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ لہٰذا انتظامیہ کو امن و مان کی بحالی کے لئے لاء اینڈ آرڈر مشینری پر توجہ دینی چاہئے“۔


علامتی تصویر


انہوں نے مزید کہاکہ’’ہندوستان میں دلت مظالم کا مسئلہ ایک طویل حل طلب مسئلہ ہے،  اس کے حل میں سماج اور ریاست دونوں کو حصہ لینے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف دلتوں کو عبادت گاہوں میں داخلے سے روک دیا جانا ہے، آبی وسائل کی سہولیات سے  محروم رکھا جاتا ہے اور گاؤں کے اعلیٰ ذات کے درمیان بیٹھنے سے انہیں  منع کیا جاتا ہے اور دوسری طرف ریاستی حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ کسی بھی نفرت انگیز جرم کے لئے صفر روداری ہوگی اور دلت مظالم اور ان کے وقار کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی“۔

انہوں نے مزید کہا  کہ”سماجی کارکنوں، مذہبی رہنماؤں او ر سیاسی جماعتوں کو سوشل انجینئرنگ کا منصوبہ بنانا چاہئے اور عوام کو مساوات کے اصولوں، عالمگیر بھائی چارگی اور انسانیت پر کاربند رہنے کی ترغیب دینی چاہئے''۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 26, 2020 08:51 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading